After Retirement – A Column Written By Lieutenant General (R) Abdul Qayyum

After Retirement – A Column Written By Ex. Chairman Pakistan Steel Mills Karachi Mr. Abdul Qayyum in Daily Nawaiwaqt Lahore on Sunday, October 20, 2013

 

بعد از ریٹائرمنٹ

کالم نگار   لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم
20 اکتوبر 2013 0

Fikr-o-Khiyal - A Column by Abdul Qayyum

عام طور پر سرکاری ملازمین اپنی نوکری کے ایام اس امید پر گزار جاتے ہیں کہ ایک دن آئیگا جب وہ باعزت طور پر ملازمت سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ اس طرح آخر کار ان کو ملازمت کے سارے وبالوں سے چھٹکارہ مل جائیگا۔ بیوی بچوں سے الگ، بہت سارے گھریلو مسائل سے بے نیاز دیانتدار ملازم پیشہ افراد اپنی عزت کو بچانے کیلئے دفتری اوقات کی حدود کو پھلانگ کر بھی محنت کرتے ہیں تاکہ ترقیاں حاصل کر سکیں۔ بددیانت اور رشوت خور اعلیٰ افسران کے نیچے کام کرنے والے تو لگاتار ایک عذاب کا شکار رہتے ہیں۔ او ایس ڈی بننے کے خوف اور اپنی ملازمت کو بچانے کیلئے دل پر پتھر رکھ کر بھی کچھ لوگوں کو اپنے سینئر کی ہاں میں ہاں ملانا پڑتی ہے۔ بلڈ پریشر اور کلیسٹرول اوپر والی حدود پھلانگ جاتے ہیں۔ جسمانی تندرستی کیلئے ایکسرسائز کا وقت بھی نہیں ملتا۔ کہتے ہیں گولی بندوق سے اور پیٹ بیلٹ سے باہر نکل جائے تو واپس نہیں آتے۔ ملازم بے بس ہو جاتا ہے۔ کھانے کے اوقات اوپر نیچے ہو جاتے ہیں لیکن انسان ریٹائرمنٹ کے بعد کی اچھی زندگی کی خوش فہمی میں یہ مشکل وقت بھی گزارلیتا ہے۔ 60 یا 65 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد اس کو گھر میں ایک بالکل مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کو صبح سویرے جاگ کر آٹھ بجے سے پہلے ناشتہ کرنے کی عادت ہوتی ہے لیکن بیگم کہتی ہے اب جلدی کس بات کی ہے کونسا آپ نے ڈیوٹی پر جانا ہے۔ ٹھہر کر ناشتہ کرینگے اور جب آپ اپنے لئے چائے بنائیں تو ساتھ میرے لئے بھی ایک پیالی پانی کی ڈال دینا۔ چونکہ ادارے کے ملازمین واپس بلا لئے گئے ہیں اور اب یہ کام آپ کو خود کرنا ہے۔ جب خاوند ناشتہ بنانے، بنک کے چکر لگانے، الیکٹریشن، ٹیلی فون لائن مین اور پلمبروں کے پیچھے دوڑ دوڑ کر تھک جاتا ہے تو کہتا ہے جب میں نے نوکری شروع کی تھی تو 20 سال کا تھااب 65 سالوں کا ہوں یہ سارے کام مجھ سے نہیں ہوتے۔ بیگم بولتی ہے کہ آپ کا کیا خیال ہے، میں ابھی تک بیس برس کی ہوں ،شوگر نے مجھے گھیر رکھا ہے، جوڑوں کے درد جان نہیں چھوڑتے، سانس الگ اکھڑتا ہے، قوت سماعت اور بینائی وہ نہیں رہی، آپ یہ گھر کے کام نہیں کرینگے تو کون کریگا! خاوند کہتا ہے کہ بیٹیوں کو مدد کیلئے بلائیں، بیگم کہتی ہے بیٹیاں گھروں والی ہیں ان کے بچے ہیں وہ خود مجبور ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ پہلے صرف بیٹیاں شادی کے بعد گھر چھوڑتی تھیں اب بیٹے بھی شادی کے فوراً بعد بیگم کے اشارے پر بوڑھے والدین کو خدا حافظ کہہ کر گھر چھوڑ جاتے ہیں۔ پہلے پوری فیملی اکٹھی ہوتی تھی نواسے اور پوتے رونق لگائے رکھتے تھے۔ اب گھر میں بیگم خاوند اور خاوند بیگم کو دیکھ دیکھ کر تنگ پڑ جاتے ہیں۔ اگر بیگم یا خاوند میں سے ایک اللہ کو پیارا ہو جائے تو پھر گھر میں مکمل سناٹا کھانے کو آتا ہے۔ میں بھی اس صورت حال سے دوچار ہوں۔
بھارت کے ریزروبنک کے ایک 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے منیجر راما چندران سے جب بمبئی کی سینئر سٹیزن ایسوسی ایشن نے پوچھا کہ نوکری سے سبکدوشی کے بعد آپ کا کیا حال ہے تو بمبئی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے والے اس سینئر بینکر نے کہا کہ پہلے زمانے میں جنوبی ایشیا میں ہر مرد کی اوسط عمر تقریباً ساٹھ سال تھی اور سرکاری ملازمین 55 یا 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کے بعد کوئی تقریباً پانچ سال مزید زندہ رہتے تھے اور پھر اللہ کو پیارے ہو جاتے اور ….مسائل ختم ہو جاتے تھے۔ اب اوسط عمر کوئی 78 سال ہوگئی ہے اس لئے جان لینے والے فرشتہ توسنی ان سنی کر دیتا ہے اس لئے ریٹائرمنٹ کے بعد کے گھمبیر مسائل اور ہر سال بڑھتا ہوا بڑھاپا دونوں ملکر ملازمین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ راما چندران کہنے لگے کہ ریزو بنک آف انڈیا کے دو ایسے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی وہ جانتے ہیں جن کی عمریں 93 سال ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ شکر ہے ان کو ایئر مارشل اصغر خان اور لیفٹیننٹ جنرل مجید ملک کی 95 اور 94 سال کی عمروں کا پتہ نہیں جو اب بھی درازی عمر کی دعا کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے دوستوں میں سب کی Native Places تھیں وہ ملازمت چھوڑنے کے بعد اپنے اپنے خاندانوں سے اپنے اپنے گاﺅں میں جائنٹ فیملی میں جا ملتے تھے اس طرح تنہائی کا احساس نہ ہوتا تھا۔ اب آبادی بڑھنے اور شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے سے آبائی بستیوں میں رہنے کا تصور ختم ہو چکا ہے۔اچھے عہدوں پر کام کرنے والوں کو دوران ملازمت سینکڑوں بلکہ ہزاروں عید کارڈز اور یوم پیدائش پر مبارک باد کے خطوط آتے تھے اور دل خوش ہو جاتا تھا کہ میں بڑا ہر دلعزیز ہوں۔ نوکری کے خاتمے پر یہ سلسلہ ایسے ٹوٹتا ہے جیسے سخت گرمی میں پانی کے تالاب سوکھ جاتے ہیں۔ اس طرح سرکاری ملازم کو سبکدوشی کے بعد اپنی اصلی اوقات کا پتہ بھی چل جاتا ہے۔ دوران سروس انسان صبح سے تقریباً لنچ ٹائم تک دفتر میں بہت مصروف رہتا ہے۔ بیگم بھی اس وقت گھر میں اپنی ایک روٹین پکی کر لیتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہی وقت گزارنا نہ صرف خاوند کیلئے مشکل ہو جاتا ہے بلکہ بیگم کی قوت برداشت کا بھی یہ ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔ بعد دوپہر سونے یا سیر کرنے سے آدمی پرانی روٹین پر آجاتا ہے۔
ماہر نفسیات پوسٹ ریٹائرمنٹ مایوسی سے بچنے کیلئے چند حل تجویز کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ ملازمت میں توسیع کیلئے سر توڑ کوشش کی جائے، کئی دوست اپنے ماتحتوں کا حق مار کر اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن مدت ملازمت میں توسیع کو عموماً اچھا نہیں سمجھا جاتا چونکہ ایک سال تو کیا تین سال کی اکٹھی توسیع بھی ختم ہو جاتی ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ سرکاری ملازمت کے بعد کسی سیٹھ کی نوکری کر لی جائے۔ اچھی جگہوں پر پروقار وقت گزارنے کے بعد کسی سیٹھ سے تنخواہ لینا بہت سے غیور ملازمین کیلئے بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ بہرحال کچھ لوگ اچھے ماحول میں اپنی مجبوریوں کے پیش نظر یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔
قارئین چالیس سال سروس کے دوران میں نے دن رات محنت کی اور بہت ہی مصروف وقت گزارا، فوجی زندگی بہت ہی بھرپور اور ٹف تھی 1971ءکی جنگ میں حصہ لینے کے علاوہ ساڑھے چھ سال ملٹری آپریشن ڈائریکٹوریٹ میں تین سال نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تین سال، پرائم منسٹر کے ساتھ بطور ملٹری سیکرٹری، کوئی ساڑھے آٹھ سال پی او ایف اور سٹیل ملز میں بہت ہی تھکا دینے والی تعیناتیاں تھیں لیکن میں نے ان عہدوں پر رہ کر بہت کچھ سیکھا۔ اللہ کا کرم ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میں پہلے سے زیادہ مصروف ہوں۔ Charity کے کام، دو کتابوں کی تنصیف، سات سال سے کالم نگاری، ٹی وی ٹاک شوز، گالف گیم یا روزانہ تقریباً چھ کلو میٹر کی واک کے علاوہ لکھنے پڑھنے اور سیمیناروں میں حصہ لینے کو میں نے اپنی عادت بنا لیا ہے۔ لکھائی، پڑھائی کے کاموں کیلئے ریسرچ پر بہت وقت لگتا ہے۔ بیگم کی وفات کے بعد مجھے یہی مصروفیات زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ریٹائر ہونے والے ملازمین سے میری درخواست ہے کہ جائنٹ فیملی والی پرانی باتیں بھول جائیں۔ آپ نے اپنے ماں باپ کا بہت خیال رکھا جس کا آپ کو آخرت میں اجر ضرور ملے گا لیکن آج کل کے ماحول میں نئی پود کے بڑے ہی فرمانبردار بچوں سے بھی اگر آپ یہ توقع رکھیں کہ وہ اپنی سوچ سے ہٹ کر آپ کی باتوں پر زیادہ دھیان دینگے اور آپ کا ایسا خیال رکھیں گے جیسے آپ نے اپنے والدین کا رکھا تو یہ خام خیالی ہوگی۔ اس مایوسی سے بچنے کیلئے اپنی اولاد کو پوری محبت اور توجہ تو ضرور دیں لیکن بہت توقعات نہ رکھیں۔ آپ کا کوئی مشغلہ ضرور ہونا چاہئے اس کے علاوہ روحانیت اور تقویٰ سے مایوسیوں کے بادل چھٹ سکتے ہیں۔فوجی عام طور پر ریٹائرڈ کے لفظ سے چِڑکھاتے ہیں ان کا خیال ہے کہ ریٹائرڈ کا لفظ نام کے ساتھ لکھنے کیلئے ہونا چاہئے بولنے کیلئے نہیں۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں ایک خاتون اینکر نے میرا تعارف جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کرانے کے بعد کہا کہ اب میرا پہلا سوال ریٹائرڈ صاحب آپ کیلئے ہے وہ سمجھی ریٹائرڈ میرے نام کا حصہ ہے میں نے عرض کیا صرف عبدالقیوم کہیں تو مجھے خوشی ہوگی لیکن میں خاتون اینکر کی سادگی سے محظوظ ضرور ہوا۔

2 Comments


  1. stated the real accurate status of retired employees but nowadays the status of ptcl pensioners is more worst than others. would the author like to write in the favour of ptcl pensioners, please

Leave a Reply