An Important Article For Those PTCL VSS Optees 2008 With Out Pension Facility

An Important Article For Those PTCL VSS Optees 2008 With Out Pension Facility

( A T T E N T I O N )
8-3-2016
نوٹ:- “وی ایس ایس میں 2008 میں ریٹائیر ھونے والے وہ پی ٹی سی ایل کے ملازمین متوجہ ھوں جنکو پنشن کے حق سے محروم رکھا گیا”میرے 26 فروی کے آڑٹیکل کے جواب میں مجھے بیتحاشہ کالیں اور ایس ایم ایسز آۓ اور لوگوں نے بہت سوال کئے انھی سوالوں احاطہ کرتے ھوۓ میں نے یہ طویل جوابی آڑٹیکل لکھا ھے آپ سب لوگ اس کو سر سری نہ پڑھئے گا بلکہ بہت غور سے پڑھئے گا اور اپنے ایسے ساتھیوں کو بھی بتائے گاجن کو اسکا ابھی علم نھیں ھوا. میں نے یہ بات اپنے اس آڑٹیکل میں بھی لکھی ھے کے میں نے آپ لوگوں کو ایک قانونی مشورہ دیاھے اور اس پر عمل آپ لوگ کسی اچھے وکیل سے مشورہ کر کے ھی کر سکتے ھيں ھوسکتاھے آپکے وکیل کو اس سے اختلاف ھو تو آپ اسکے ھی مشورے پر عمل کیجئے گا .شکریہ

آغاز
26 فروری کو لکھے ھوے میرے آڑٹیکل کی بڑی پزیرائی ملی جو میں نیں اپنے پی ٹی سی ایل کے ان دوستوں کے بارے میں لکھا تھا جو باوجود پنشن کا حق رکھتے تھے مگر پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ نے انکو بغیر پینشن کے وی ایس ایس 2008-2007 میں فارغ کردیا.اس آڑٹیکل کو میں نے اپنے فیس بک کے اکا ؤنٹ پر اپلوڈ کیا تھا مگر جناب توقیر صاحب سیکٹری APPPC نیں اسے اپنے PTCL Pensioners کے پیج پر اپلوڈ کردیا جسکے لئے میں انکا زاتی طور پر بیحد مشکور ھوں اور خاصکر کر ان اداروں اور دوستوں کا جنھوں نے اپنے اپنے ویب سائٹس پر اسکو جگہ دی جس سے انٹرنیٹ پر اسکی آگاھی ھوئی اور بہت سے ھمارے ایسے ساتھیوں کے علم میں یہ بات آئی کے کے کسطرح پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ دھوکہ دھی سے انکے بنیادی حق Right of Pension پر ڈاکا مار کر انکو اپنے بنیادی حق پنشن سے محروم کیا . یہ حق انکی دس سالہ سرکاری کوالیفائنگ ملازمت کی وجہ سے قانونی طور پر بن چکا تھا .کچھ لوگ ابھی تک سمجھ نہیں پارھے پھر سمجھاتا ھوں سپریم کورٹ نیں اپنے مسعود بھٹی کیس یعنی (2012SCMR 152) میں یہ رولنگ دی ھے ” ” پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے وہ ملازمین جو یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی ایل میں آچکے تھے ان پر گورنمنٹ کے سرکاری ملازمین والے قوانین (statutory rules ) لآگو ھونگے اور انکے Terms and conditions of service میں کوئی ایسی تبدیلی جو انکے کسی نقصان کا باعث بنے ، نھیں لائی جاسکتی” تو جب ایک سرکاری ملازم دس سال کی کولیفائنگ سروس رکھنے کی وجہ سے پنشن کا حقدار ھوجاتا ھے تو اسکو کس قانون کے تحت دس سال سے بھی زیادہ کوالیفائنگ رکھنے کے باوجود پنشن سے محروم رکھا گیا اور کس قانون کے تحت اس کو پینشن دینے کی مدت ملآزمت میں بیس سال کی توسیع کی جبکے قانون کے تحت پی ٹی سی ایل ایسا کرنے کے مجاز ھی نھیں تھی جس میں انکے حقوق ملازمت میں کوئی منفی چیز پیدا ھو اور انکو مالی نقصان ھو”. اور پی ٹی سی ایل والے سرکاری ملازمین کو20 سالہ یا اس سے سے زیادہ کوالیفائنگ ملازمت والے سرکاری ملازمین کو وی ایس میں پنشن دے کر ریٹائڑڈ کرکے ایک طرح کی discriminations کرنے کے مر تکب ھوۓ جو اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے آیین کی شق 27 کی خلاف ورزی ھے اسکے بھی مرتکب ھوۓ جسکا انکو کسی قسم کا قانونی اختیار ھی نھیں تھا. مجھے پورے پاکستان اور اسکے دور دراز علاقوں سے اور باہر ملکوں مثلن دوبئ ، لندن ، کنیڈا اور سعودی عریبیہ سے بہت کالیں موصول ھوئیں .جہاں انھوں نے میرے اس کام کو سراہا اور اس پر عمل کرنے کا طریقہ معلوم کیا . بہت سے لوگوں نیں مجھے اپنے ای میل ايڈرسس بھیجے انکو میں نے اپنے دونوں آڑٹیکلز یعنی پہلا 22 فروری والا اور دوسرا یہ 26 فروری والا ایمیل ایک ساتھ کیا اور انسے استدعا کی کے پھلے وہ 22 فروری والا آڑٹیکل پڑھیں اور اسکے بعد 26 فروری والا تو پھر انکو سمجھ میں آجا ئے گا.جو بھی میں نے لکھا قانون کے مطابق لکھا جسکی بنیاد سپری یم کوڑٹ کا مسعود بھٹی کییس میں دیا ھوا فیصلہ تھا جو اب 19 فروری کو پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کی ، اسکے خلاف رویو پٹیشن خارج ھونے کے بعد ، ایک قانون کی شکل اختیار کرچکا ھے . اور اسکی خلاف ورزی سپریم کوڑٹ کے حکم کی خلاف ورزی ھی تصور ھوگی. یہ بات پی ٹی سی ایل والوں اور اسکے حواریوں کو اچھی طرح جان لینی چاھئے.
مجھے لاتعداد کالیں میرے سیل فون پر انھی لوگوں کی موصول ھورھی ھیں جس مجھ کو یہ کافی حد تک اندازہ ھوگیا کہ ایسے لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ھے جن کو اسوقت کے جاہل ، قانون سے ناآشنا پی ٹی سی ایل کےکرتا دھر تاؤں نے ایسے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جن کی ۱۹ ، ۱۹ سال کوالیفائنگ سروس تھی اور جن کو قانون نے سرکاری ملازم کا سٹیٹس دے رکھا تھا، انکو انھوں نے اسطرح بغیر پنشن دے کے فارغ کیا. 2008 میں , کیا ان جاہل پی ٹی سی ایل انتظامیہ کو ، (جو پی ٹی سی ایل کے صرف 26% شئیر خرید کر انتظامی حالات اپنے ہا تھ میں لے چکے تھے) زرا بھی اس بات کا خیال نہیں آیا کے Pakistan Telecommunications (re-Organization ) Act1996 کی سیکشن (2) 35 کے تحت جو ملازمین کاپوریشن سے يکم جنوری 1996 پی ٹی سی ایل کے وجود میں آتے ھی پی ٹی سی سے پی ٹی سی ایل میں آچکے تھے انکا سٹیٹس وھی ھوگا جو انکا ٹی اینڈ ٹی اور پی ٹی سی میں تھا اور انکے Terms &Condition of Services کو کسی طرح Adversely تبدیل نھیں کیا جا سکتا جو انکے نقصان کے باعث بنے میں یہ بات اسلئے بتا رھا ھوں کے کہیں یہ پی ٹی سی ایل یہ بہانہ نہ کرے کے اس وقت یہ سپریم کوڑٹ کا یہ آڈر نھیں آیا تھا مگر یہ قانون تو موجود تھا جیسا اوپر بیان کیا ( مسعود بھٹی کیس کا تاریخی فیصلہ 7 اکتوبر۱۱ میں آیا جس میں اسی ایکٹ اور اسی قانون کی تشریح کرکے اس کو مزید endorse کیا جو اب ایک قانون بن چکا ھے پی ٹی سی ایل کی اس فیصلے کے خلاف انکی رویو پٹیشن ۱۹فروری ۱۴ کو خارج ھونے کے بعد اسکی قانونی حیثیت کنفرم ھو گئی) اور ان اسوقت کی پی ٹی سی ایل ھیڈ کوارٹرزمیں بیٹھے ھوۓ جاھل انداتاؤن نے جان بوجھکر انکی پینشن لینی کی مدت ملازمت میں دس سال کی کوالیفائنگ سروس کی بجاۓ بیس سال کی کوالیفآئنگ سروس کردی اور اسکو 2008 میں وی ایس ایس رٹائیر ھونے حصہ بنا کر یعنی وی ایس ایس میں رٹائیر ھونے کی شرائیط میں شامل کردیا اور ایس تمام لوگوں کوں جنکی یہ سروس بیس سال سے کم تھی بغیر پنشن کے ریٹآئیر کردیا جسکے وہ بالکل بھی مجاز نہ تھے.یہی “میرا بنیادی قانونی نقطہ ھے ” اسلئے میری خواہش کے عدلیہ انکے اس عمل کو غیر قانونی قرار دے اور ایسے تمام ریٹایڑڈ پی ٹی ٹی سی ایل کے ان سرکاری ٹرانسفڑڈ ملازمین کو جنکی یہ سروس
اسوقت دس یا دس سال سے زیادہ مگر بیس سال سے کم تھی ،انکی بغیر پنشن کے وی ایس ایس میں غیر قانونی ریٹائرمنٹ کو ان سب کی اسی تاریخ سے پنشن فکس کی جاۓ اور انکے ابتک کے تمام واجبات یکمشت ادا کئے جائيں. . مجھے ایسے کچھ متاثرہ پی ٹی سی ایل سرکاری ملازمین نے بتایا کے انکو مجبور کیا گیا کے انھیں بغیر پیشن کے ھی وی ایس ایس لینا ھوگی ورنہ انکی پوسٹنگ ایسی جگہ کردی جاۓ گی جہاں جانے کا وہ کبھی سوچ ہی نہیں سکتے تو انکو مجبورن ایسا وی ایس ایس لینا پڑا ” مرتے کیا نہ کرتے”. تقریبن تمام ایسے لوگوں نیں مجھے یہ ہی بتایا ھم لوگ تو بغیر پینشن کے وی ایس ایس تو لینا نہیں چاھتے تھے مگر جہاں ھم لوگ اسوقت کام کرتے وھاں پر ھمارے آفیسران نیں ھم کو بیحد مجبور کیا کے ھو لوگ پینشن بغیر وی ایس ایس لیں کیونکے ھماری سروس جو انھوں نے اسوقت پنشن کے لئے مقرر کی تھی , وہ بیس سال سے کم تھی. انھوں مجھے یہ بتایا جب ھم اپنے افسران کی منتیں کرتے تھے کے ھم بغیر پنشن کے نھیں جاسکتے تو یہ افسران ھم کو دھمکیاں دیتے تھے کے اگر تم نے یہ وی ایس ایس نہ لیا تو تمھارا اتنی دور جگہ ٹرانسفر کروادیں گے کے تم اپنے گھروں کو مہینوں اور سالوں میں بھی نہیں آسکتے کیونکے انکو اوپر سے یہ ہی احکامات ھیں کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وی ایس ایس میں بھجوا کر فارغ کرو . ان لوگوں کے یہ باتیں سن کر میرا دل بہت کڑھا.مجھے اس نائب قاصد کی بات سن کر بیحد دکھ ھوا جس نے روتے ھوے مجھ سے کہا ” سر میری اسوقت اٹھارہ سال سے زیادہ سروس ھوچکی تھی اور میں بالکل بھی وی ایس ایس لینا نہیں چاھتا تھا کیونکے مجھے پنشن نہیں ملتی اس وقت میری چار چھوٹی لڑکیاں تھیں اور میں بغیر نوکری اور پھر پنشن کے بغیر آگے کیسے گزارہ کرتا.مجھے اسوقت صرف گیارہ لاکھ روپے دے کر فارغ کردیا گیا اور وہ پیسے کہا ں تک چلتے؟ اب میری وہ چاروں لڑکیاں جوان ھو چکی ھیں شادی کی کی عمر کو پہنچ چکی ھیں .میرے پاس تو اتنا پیسہ بھی نہیں کے میں بھی انکے خلاف کیس کرسکوں جیسا آپنے مشورہ دیا ھے . یہ کہہ کر پھر وہ رونے لگا”. میں نے اسے د لاسہ دیا اور کہا ” کے تم فکر نہ کرو بلکہ اپنے ان دوستوں کے حق میں خوب دعا کرو کےالله انکو کامیاب کرے جو اپنے حق کے لئے کیس کرنے جارھے ھیں کیونکے اگر کوڑٹ سے انکو حق مل گیا تو تم کو بھی خود بخود مل جائے گا اور انشاللہ تم تمھاری جآئز پنشن اسی دن سے مقرر ھوگی جس دن سے تم وی ایس ایس میں ریٹآئر ھوۓ تھے اور تمکو اسکے تمام بقایاجات ملیں گے .پریشان نہ ھو تم کو خود کیس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں”. اسکےعلاوہ مجھے ایسے بہت سے لوگوں کی کالیں ملیں جن کی سروس اسوقت بیس سال سے بھی زیادہ تھی بلکے ۲۳سل اور۲۸ سال تک اور انھوں نیں وی ایس ایس کے لئے درخواست دی مگر انکو پنشن نھیں ملی اور یہ بتایا گیا کے ان کولیفائنگ سروس بیس سال سے کم ھے. انھوں نے مجھ سے مشورہ مانگا کے وہ کیا کریں . میں نیں انسے کہا “آپ لوگ بھی وھی کریں جو یہ لوگ کرنے جا رھے ھیں مگر کورٹ میں جانے سے پھلے پی ٹی سی ایل پریزیڈنٹ سے اپیل کریں انھی گراؤنڈ پر اور انکو ایک مقررہ وقت دیں اور یہ بتائیں کے اگر انکا جائز حق انکو نہ دیا گیا تو انکو اپنے اس جا ئیزحق کے لئےکورٹ کا دروازہ کھٹ کھٹانہ پڑ ے گا”. مزید برآں مجھے ان لوگوں کا فون بھی آۓ جنھوں نے نیں ۲۰۱۲ میں و ی ایس ایس لیا تھا اور انکا کہنا تھا کے انکو تو یہ تک نھیں بتایا گیاتھا کے بیس سال سے کم سروس والوں کو پینشن نہیں ملے گی دینے کو کہا جب ھم نے وی ایس ایس کے لئے درخواست دی تو ھم کو بھی پینشن دئے بغیر فارغ کر دیا کیونکے ھماری سروس بیس سال سے کم اور دس سال سے زیادہ تھی.انکو میں نے صرف اتنا کہا کے اگر ۲۰۱۲ کے وی ایس ایس میں آپشن والی بات نھیں تھی بلکہ وھی پرو سیجر استعمال کیا گیا [ {نوٹ :- اگر کسی کے پاس ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۲ کے مکمل documents ھوں جو ھر ایک کے نام دو خا لی لفافوں leopard سروس کے ، ساتھ آئی تھیں ، تو وہ ان سب کی فوٹو کاپیاں یا تو میرے اس ای میل کے ایڈرس پر جو میں اس مضون کے اختتام پر تحریر کررھا ھوں ضرور سکین کردیں یا مجھ سے میرے سیل نمبر پر بات کرکے جو اسکے اختتام پر لکھا ھے اور میرے اسوقت بتاۓ ھوے ایڈرس پر ضرور ٹی سی ایس یا یو ایم ایس کے زریے ضرور بھیج دیں تاکہ میں ان دونوں docs کا اچھی طرح جائزہ لے کر کچھ اور نقاط نکال سکوں جو آپکےمزید فائدے کے لئے ثابت ھو . شکریہ } ] ھوتو وہ بھی وھی عمل کرسکتے ھیں جنکو ۲۰۰۸ میں بغیر پنشن لئے وی ایس ایس میں فارغ کردیا گیا . کافی ایسے لوگوں کے ایس ایم ایس ملے جنھوں نے اپنے الی میل ایڈریسس ایس ایم ایس کئے تھے انسبکو اپنے یہ دو آڑٹیکلز یعنی ایک ۲۲ فروری والا اور دوسرا ۲۴ فروری والا ای میل کردیا اور تاکید کردی کے پہلے ۲۲فروری والا آڑٹیکل پڑھیں اور بعد میں دوسرا جب ھی آپ لوگوں کو سمجھ میں آئیگا. ایک اور ایس ایم ایس بھی مجھے آیا جس نے نہ صرف جھجھونڑ کر رکھ دیا اور میری آنکھيں بھی نم ھو گئیں . یہ آج سے تین دن پہلے کی بات ھے اور میں فجر کی نماز یے لئے آنکھیں ملتا ھوا اٹھ ھی رہا تھا کے اچا نک میرے موبائیل پر ایس ایم ایس کی مدھم سی ٹون آئی .”خدا خیر کرے” کہتے ھۓ میں نے ایس ایم ایس پڑھا ، رومن انگلش میں لکھا تھا ” بیٹا! کیا ھمیں بھی پیسے ملینگے. . . . ایک بیوہ”. یہ پڑھتے ھی مجھے ان ایسے وی ایس ایس ۲۰۰۸ میں بغیر پنشن لئے ھوے ان پی ٹی سی ایل کے سابقہ سینکڑوں ملازموں کا خیال آگیا جو اب اس دنیا میں نہیں رھے اور انکی بیوائیں بغیر کسی ماہانہ پنشن کے کسمپرسی کے دن گزار رھی ھیں .اگر انکے مرحوم شوھروں کی پنشنس وغیرہ ھوتيں تو آج ان بیوآؤں کی بھی پنشن ھوتی اور انکو کچھ نہ کچھ سہارا مل ھی جاتا .تو آپ سب سے میری یہ درخواست جب آپ لوگوں کو آپکے پنشن لینے کا حق مل جاۓ توان اپنے پی ٹی سی ایل کے ایسے دوستوں کو نہ بھولئے گا اور انکی ان بیواؤں کو . انکے مرحوم شوھروں کی پنشن کے بقایہ جات جب تک وہ حیات تھے ، اور اسکے بعد ان بیوآؤں کی پنشن کی منظوری ، اور اسکے بھی بقایہ جات دلوانے جلد از جلد پوری کی پوری کوشش کرئے گا . خدا آپ سب کو جزادے گا.ابھی سے آپ سب لوگ ایسے مرحومین اور انکی بیوآؤں کا ریکارڈ مرتب کرلیں اور جس وقت آپ لوگوں کا کیس عدالت میں چل رھا ھو ، تو ایسی بیواؤں کا ریکاڈ مرتب کرکے عدالت میں پیش کریں اور معزز عدالت کو بتائیں کے پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ کے اس ظالمانہ عمل سے جس میں انھوں نییں اٹھارا اٹھارا، اور انیس اینیس سال کی سروس کے پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والے ٹرانسفرڈ ملازمین کو وی ایس ایس میں پنشن نہ دیکر ، جو کہ انکا ایک قانونی حق تھا، ایک بڑا ظلم کیا جسکا پی ٹی سی ایل کی انتطامیہ پاس کوئی بھی قانونی اختیار نہیں تھا. آج انکی ظالمانہ کاروئی کی وجہ سے ایسی کئی بیوائں کسپمرسی کے دن ، اپنے مرحوم شوھروں کی ما ہانہ پنشن نہ ھونے کی وجہ سے کزاررھی ھیں ، اسکا تدارک کیا جاۓ. یقینن معزز عدالت اس بات کا ضرور نوٹس لے گی اور کیس کو جلدی نمٹانے کی کوشش کرے گی. ایک بات آپ سبکو بتادوں کے عدالتیں پنشن اور خاصکر بیواؤں کی پنشن کے معاملہ جات پر بیحد حساس ھوتی ھیں اور ایسے فیصلے جلد از کرنے کی کو ششیں کرتی ھیں.
بہت سے لوگ ابھی بھی بہت تزبزب کا شکار ھيں انکو یہ خدشہ ھے کے اتنے عرصے کے بعد اس کیس کو اٹھانا اور اپنا حق مانگنا کیا سود مند رھے گا؟ کیا عدالت اسکو پھلے ھی مرحلے میں ٹائیم باڑڈ قرار دے کر اڑا نہ دے گی؟ .یہیں تو ایک قابل اور ماہر وکیل کے کرنے کا سوال پیدا ھوتاھے جو یہ کی کیس بخوبی سے لڑے اور اپنی ماہرانہ دلائل اور ریفرینسز دے کر عدالت کو یہ کیس سننے پر مجبور کرے. اگرچہ میں کوئی وکیل نھیں ھوں اور نہ میں نے کبھی وکالت پڑھی ھے مگر میں نے اپنی 34 سالہ سروس میں تقریبن 26 سال ایسی پوسٹوں پر کام کیا جہاں ایڈمسٹریشن ، سٹاف کے معاملات اور قانونی مسائیل کا سامنا کرنا پڑا جسکو میں نے بڑی خوبی اور محنت سے ان قانونی معاملات کو نبھایا.میں نے کنٹرولر ٹیلیگراف سٹور کراچی کی پوسٹ پر ساڑھے چھ سال (March 86 to Sept92) سے زیادہ کام کیا جوایک ریکاڑڈ ھے.مجھے اس پوسٹ پر بہت ھی قانونی مسائیل کا سامنا کرنا پڑا کنٹریکٹر زرا زرا سی بات پر ٹی اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ کے خلاف کیس کردیتے تھے مجھے اپنے محکمے کے وکلا کے ساتھ خود عدالت جانا پڑتا اور ان وکلا کو پھلے سمجھانا پڑتا کے ھمارے محکمے کے قوانیں کیا ھیں اور ان لوگوں نیں کیوں مقدمہ کیا اور وہ کیا غیر قانونی کام کروانا چاھتے ھيں وغیرہ وغیرہ. مجھے یاد نہیں کے میں نے ایسا کوئی کیس ہارا ھو . ہاں یہ ضرور ھے کے اگر چھوٹی عدالتوں نے کسی بنیاد پر ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا ھو تو میں فورن بڑی عدالت میں جاکر فیصلہ اپنے حق میں کرالیتا.ایسا بہت دفع ھوا کے کہ جب مجھے معلوم ھوتا کے ھمارا وکیل بک گیا ھے اور فیصلہ ھمارے خلاف آگیا تو میں نئے وکیل کرنے کی بجاۓ جس پر ٹائم کافی لگتا تھا، خود اپنی جیب سے وکیل کرکے ڈیپارٹمنٹ کا کیس بڑی کورٹ سے جیت لیتا اللہ کا بڑا احسان تھا . اس زمانے میں وکلاء کی فیس بہت کم ھوتی تھی ڈیپاڑٹمنٹ کے وکیل کی تو ایکھزار روپے سے بہت کم تھی. ایسے بہت سے ڈیپاڑٹمنٹ کے خلاف ایسے بہت سے عداتی کیسسز ھیں جو صرف میں نے اپنے بل بوتے پر جیتے. کبھی وقت ملا اور زندگی رھی تو ایسے کچھ کیسز جو مجھے ابتک یاد ھیں آپلوگوں سے ضرور شئیر کروں گا.
تو میں يہ زکر کرھا تھا کے میں کوئی وکیل نھیں میں نے ایک اپنی ایک راۓ دی ھے آپکو،ایک مشورہ دیا،ایک ہلکہ سا دیا جلا کر آپکو آپکی تاریک راہ میں ایک ھلکی سی روشنی کرکے ایک راہ کا راستہ دکھایا اب آگے بڑھنا اس راستے کو مزید منور کرنا آپ لوگوں کا اپنا کام ھے میرا کام صرف یہاں تک تھا اب کسطرح اس راستے کو روشن کرتے ھیں اور اپنی منزل پاتے ھیں . یہ آپکا کام ھے. اللہ آپکو ان کوششوں میں کامیاب کرے اور آپکو اپنا حق دلاۓ آمین. جیسا میں نے آپ لوگوں کو پہلے ھی بتادیا کے آپکو اپنے اس مقصد کے لۓ ایک بہت experienced ایسے کیسوں کے ماہر اور خوپ اچھی شہرت رکھنے والے وکیل کرنا ھوگا. انسے مشورہ لیں بہت اچھی طرح بیشک انکو میرے سارے آڑٹیکلز دکھائیں انسے مشورہ کریں مجھے اللہ کی زات سے پوری امید ھے کے وہ میرے اس مشورہ سے ضرور متفق ھوں گے اور آپ لوگوں کا کیس لڑیں گے انشاللہ. جب آپکا یہ کیس آپکے وکیل ھائی کوڑٹ میں داخل کریں گے تو اسکی پھلے کچی پیشی ھوگی جس میں پھلے عدالت یہ فیصلہ کرے گی کے آیا یہ پٹیشن قابل سماعت ھے بھی یا نہیں. جب اس کچی پیشی کی سنوآئی تو انکا وکیل سب سے پھلے یہ اعتراض کرے گا کے یہ پٹیشنرز ایک غیر متعلقہ اشخاص ھیں جنکا پی ٹی سی ایل سے اب کوئی بھی تعلق نھیں اسلۓ یہ لوگ پی ٹی سی ایل کے خلاف ھائی کورٹ میں نہیں آسکتے. اسکا جواب آپکے وکیل کے پاس ضرور ھوگا وہ پھلے پٹیشنرز کے دئے ھوۓ دستاویزات سے یہ ثابت کریں گے کے یہ وہ پی ٹی سی ایل کے وہ ملازمین ھیں جنکو پی ٹی سی ایل نے وی ایس ایس ۲۰۰۸ میں بغیر پنشن کے ریٹائیر کیا . اور جیسا مسعود بھٹی کے کیس کے فیصلے یعنی (2012SCMR152) میں کہا گیا کے پی ٹی سی ایل کے میں ایسے ملازمین جو یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی سے پی ٹی سی ایل میں ٹرانسفرڈ ھکے آچکے تھے انپر گورنمنٹ کے statutory rules استعمال ھونگے وہ ہائی کوڑٹ میں آئین پاکستان کے آڑٹیکل ۱۹۹ کے تحت پٹیشن داخل کرسکتے ھیں “they are entitled to invoke the jurisdiction of High Court” اور یہ تمام پٹیشنرز اسی کیٹیگری ميں آتے ھیں اسلۓ یہ اعتراض غلط ھے.اسکے بعد ھوسکتا ھے انکے وکیل اس بات پر اعتراض کے یہ “ٹائم بارڈ” کیس ھے اسلۓ اسکو سنا نہیں جاسکتا . اسکا بھی جواب ھے جو آپکے وکیل یہ کہہ سکتے ھیں کے پٹیشن مسعود بھٹی کیس یعنی (2012SCMR152) کے فائنلی اٹینڈ کرنے کے بعد ہی ڈالی جا رھی ھے کیونکے اسکے خلاف پی ٹی سی ایل کی رویو پٹیشن پانچ رکنی بینچ نے ۱۹فروری کو مکمل طور پر خارج کردی اور اسی کیس کی روشنی میں جب یہ بات علم میں آئی کے پی ٹی سی ایل ان ٹراسفڑڈ ملازمین جو یکم جنوری 1996کو پی ٹی سی سے پی ٹی سی ایل میں آچکے تھے انپر فیڈرل گورنمنٹ کے statutory rules استعمال ھوں گے اور انکو فیڈرل گورنمنٹ نے بحثیت ایک سول سرونٹ سروس Federal Pension Rules میں جو حقوق دئیےگئے ھیں انکو بالکل بھی اسطرح تبدیل نہیں کیا جاسکتا جس سے انکے حقوق میں ان تبدیلی کی وجہ سے کوئی نقصان ھو .جبکے پی ٹی سی ایل نےاس بات کو نظر انداز کرتے ھوۓ ۲۰۰۸ میں وی ایس ایس دینے کے لئیے انکی پنشن دینے کی کوالیفائڈ سروس میں دس سال سے بیس سال کی توسیع کردی جو غیر قانونی تھی جبکے فیڈرل گورنمٹ پنشن رولز میں دس سال کی کوالیفائیڈ سروس مکمل ھونے کے بعد پنشن اس سرکاری ملازم کا حق بن جاتا ھے اگر کسی ایسے سرکاری ملازم کو جبری ریٹائر کیا جاۓ تب بھی اگر اسکی کوالیفائڈ سروس صرف دس سال ھی ھو تب بھی اسکو پنشن مل جاتی ھے اور یہاں انھوں نے اٹھارہ اٹھارہ اور انیس انیس سال کی کوالیفائڈ سروس رکھنے کے باوجود ان ملازمین کو جو پی ٹی سی ایل میں سرکاری سٹیٹس رکھتے تھے ،انکو بغیر پینشن کے بغیر زبردستی دھونس اور دھمکی سے وی ایس ایس لینے پر مجبور کیا ،جسکا ان پی ٹی سی ایل کی مینیجمنٹ کو کسی قسم کا بھی قانونی اختیار نہ تھا . اسکے خلاف یہ اب اسلۓ پٹیشن کرنے آئے ھیں. مجھے امید ھے ان دلائل سننے کے بعد عدالت اسکو مکمل سماعت کے لئے منظور کرلے گی انشاللہ.
اسکے کچھ عرصے کے بعد کے انشاللہ اسکی مکمل سماعت شروع ھوگی.میرا ذاتی خیال ھے کے بحث شروع ھونے سے پھلے عدالت سے استدعا کی جاۓ کے وہ ان تمام ایسے ملازمین کی نام کے ساتھ اور ھر ایک کی کولیفائڈ سروس (۲۰۰۸ تک ) ، گریڈ پے اسکیل , کی ایک مکمل لسٹ منگوائی جائے تاکے معزز عدالت کو یہ معلوم ھوجاۓ کے کتنے ایس ملآزمین تھے جنکو اس طرح سے پنشن کے بغیر ۲۰۰۸ میں وی ایس ایس دیا گیا. جہاں تک میرا خیال پھلے اس بات پر بحث ھوگی انکے وکلاء کی طرف کہ یہ رضاکارانہ وی ایس ایس تھا جس نے قبول کیا ھم نے اسکو دے دیا یہ نہ لیتے؟؟؟؟ وغیرہ وغیرہ.ھمارے وکیل کی شائید یہ بحث کے انھوں نے کس قانون کے تحت پنشن ایبل سروس ملازمت دس سال سے بیس سال بڑھائی ھی کیوں ,اور ایسی شرط رکھی ھی کیوں ؟ ؟؟؟ کیا انکو معلوم نھیں تھا کے اس میں ایسے سرکاری سٹیٹس رکھنے والے ایسے ٹرانسفرڈ ملازمین موجود ھیں جن پر فیڈرل گورنمنٹ کے پنشن رولز استعمال ھوتے ھیں اور جو دس سال کی کولیفائنگ سروس کرنے پر قانونی طور پر خودبخود پنشن کے حقدار بن جاتے ھیں. اور انکا یہ حق کسی طرح کم یا تبدیل نھیں کیا جاسکتا . ھوسکتا ھے ان دلائیل کو ثابت آپکے وکیل کچھ ریفرنسز (جو اسکے حق میں ھونگے ) کچھ اسی طرح کے عدالتوں فیصلے وغیرہ پیش کریں گے اور یہ ثابت کرینگے ان پی ٹی سی ایل والوں نے غیر قانونی کام کیا جسکو منسوخ کیا جاۓ . تو اسطرح کیس بڑھے گا اور جیت انشاللہ آپ ھی لوگوں کی ھوگی .یہ میرا پختہ یقین ھے خدا کی زات سے اسکی بڑی ھی اچھی امید ھے .ایک اور بات جو لوگ بھی یہ کیس کریں وہ اپنے وکیل کو وہ دستاویزات مکمل دیں جو آپ لوگوں سے وہ مانگے. سب سے اھم دستاویزات اپکے appointment لیٹر کی کاپی ھے جس میں یہ معلومات ھوں کہ آپ کس ریگولر پوسٹ ، کس گریڈ کس تاریخ میں اور کس جگہ کس مقام اور کس ڈیپارٹمنٹ یعنی ٹی اینڈ ٹی یا پی ٹی سی میں تعنیات ھوۓ تھے. آپکی سروس بک کا ریکارڈ جس میں دس سال کی کولیفائيڈ سروس کا سرٹیفیکٹ ، پی ٹی سی ایل کے ایسے نوٹی فیکیشن کی کاپی جس کے زریعہ انھوں نے وی ایس لینے والوں کی پنشن ایبل سروس میں دس سال سے بیس سال کا غیر قانونی اضافہ کیا، آپکو وی ایس ایس ۲۰۰۸ لینے کے لئے دستاویزات کی کاپیاں اور وی ایس ایس لینے کی شرائط، وی ایس ایس 2008-2007 کے نوٹیفیکیشن کی کاپی, اس بات کے ثبوت کی کاپی کے آپ یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی ایل میں آچکے تھے اور سب سے اھم اس لیٹر کی کاپی جسکے تحت آپ ۲۰۰۸ میں بغیر پنشن لئے ریٹائر کردئے گۓ.ھوسکتا ھے آپکا وکیل مسعود بھٹی کیس کی جسکا فیصلہ 7 اکتوبر 2011 میں ھواتھا اور انکی رویو پٹیشن خارج ھونے کا 19فروری 2016 کو پانچ رکنی سپریم کوڑٹ کے فیصلوں کی certified copies مانگ لیں جو آپنے دینی ھونگی .
کچھ لوگوں نے مجھ سے کہا ھے کے کیونکے ابھی تک سپریم کوڑٹ کا ۱۹ فروری کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا جس میں پی ٹی سی ایل کی رویو پٹیشن مسعود بھٹی کیس کے خلاف خارج نھیں تو جب تک وہ نہ آۓ ھمیں کوئی اپیل ھائی کوڑٹ میں نھیں کرنی چاھئیے. میرے خیال میں کوئی مضائقہ نھیں.تفصیلی فیصلے میں یہ لکھا آئیگا کے انھوں نے کن وجوھات کی بنا پر پی ٹی سی ایل کی رویو پٹیشن خالی کی اور کیوں مسعود بھٹی کیس میں، سپریم کوڑٹ کا فیصلہ اب قانونی شکل اختیار کر چکا ھے.
کچھ لوگوں نیں مجھ سے درخواست کی ھے کے انکی ڈیپاڑٹمنٹل اپیل بھی تیار کردوں .میں آپ سبکے لئے ایک رف سی اپیل بنا رھا اس کو آب لوگ کسی ماہر وکیل کو دکھاکر اسکے نوک پلگ ٹھیک کراکر کر ھی اسکو بزریعہ رجسٹرڈ اے ڈی یا ٹی سی ایس سے بھجوائیے گا اور اسکی کاپی اور بھیجنے کے ریکاڈ کی کاپی اور اگر آپ ٹی سی ایس والوں سے معلوم کرکے کے یہ اپیلیں وھاں کسنے وصول کی ھیں انکے نام بھیجنے والی رسید کے پیچھے اور وہ تاریخ جب انھوں نے آپکی اپیل وصول کی ، ضرور لکھئے گا اور جب کوئی کیس کرے تو ان تمام رسیدوں کی کاپیاں بشمول اس اپیل کی کا پیاں جو آپنے بھجوائی تھیں ،اپنے وکیل کو دینی پڑیںں گی تاکہ وہ پٹیشن میں یہ بات لکھ سکے کے پٹیشنر نے اپنے محکمے سے اپیل کی پنشن دینے کی مگر انھوں دئے ھوۓ وقت میں کوئ نہ جواب دیا اور نہ پنشن دینے کا حکم اس لۓ عدالت آئۓ ھیں .یہ اپیل دو اشخاض کے نام لکھی جآئگی .انگلش میں لکھرھا ھوں جو مندرجہ زیل ھے

Date:-
To,
1) The President /CEO.
PTCL, PTCL H/Qrs
G-8/4
Islamabad
2) The MD PTET
Pak Telecom Employees Trust
. Tele-House, Mauve Area, G-10/4,
Kashmir Highway,
. Islamabad .

Subject:- Appeal/ Notice

Dear Sir,
I……..s/o……. was appointed on regular post of …….grade…… on the date………… in the region ……….city…….. of Pakistan Telegraph & Telephone Department/Pakistan Telecommunication Corporation. **After the establishment of PTC in December 1991 my service has been transferred with other all employees of T&T department on the same terms & condition as I had in T&T department . On 1-1996 ,I stood transferred from PTC to PTCL ie a new established company along with other employees of PTC. The Honourable Supreme Court of Pakistan in her decision in Masood Bhattie case ie Masood Bhattie & others vs Federation of Pakistan & Others (2012 SCMR 152) declared that the employees who stood transferred from PTC to PTCL on 1-1-1996 will be governed by the statutory rules of govt of Pakistan and their terms and conditions of service can not be altered for their disadvantages But I was retired under VSS 2008 vide your memo number. . . . without pension in spite of having qualified service of …….years where according to Federal Pension Rules (which were applicable to me in PTCL being transferred employee from PTC to PTCL on 1-1-1996) on the ten years of qualified service a civil becomes the entitle of pension. Thus the alteration in my pensionable service,a gross violation of my fundamental rights as my terms and condition of service which can no be altered for my disadvantages. So in view HSC decision in Masood Bhattie case ie in (2012 SCMR 152) , you are requested to order the restore my due pension wef from …… the date from which I was retired without pension and all arrears pension till date be given to me. If no any action has been taken within fifteen days, I will be compelled to knock the door court for my legitimate rights.
Sincerely yours

Name:-
Designation :
Employee #:
CNIC#
Email:
Phone:
Address:

 

آخر میں ایک بات آپ سبکو یہ باور کرانا چاھتا ھوں جو گچھ بھی میں نے آپکو لکھا وہ آپکی بھلائی اور آپلوگوں کی معاشی مشکلات کو سوچتے ھوے لکھا اسکا میرے ضمیر پر بہت بوجھ تھا کیونکے کے میں یہ کافی عرصے سے سوچ رھا تھا اللہ کرے آپ لوگوں کو اپنا حق مل جائے آمین .کسی کے ذھین میں یہ بات نہ آنی چاھئے کے جو کچھ میں کررھا ھوں کسی لالچ میں، کسی معاوضے کے لئے یا کسی انعام گے لئے .میں تو اسکو اپنے لئے بڑا پاپ سمجھتاھوں میں سمجھوں گا کے آپ لوگوں نے مجھے بہت ھی بڑا انعام دیا جب اس نآئب قاصد کی بیٹیوں کی شادی ھوجائیگی جو مجھ کو رو رو کر کر بتا رھاتھ کے وہ کیا کرے میں سمجھوں گا آپنے مجھے بہت بڑا معاوضہ دیا جب اس بیوہ کو پیسے مل جائیں گے جس نے مجھے ایس ایم ایس کیا تھا کے” بیٹا کیا ھمیں بھی پیسے ملیں گے. . . ایک بیوہ عورت

واسلام

محمد طارق اظہر
صبح پانچ بجے
8 مارچ 2016
azhar.tariq@gmail.com
0300-8249598

نوٹ: یہ مندرجہ زیل فوٹو اس Pension caclation کا چاڑٹ ھے جو Federal Pension Rules سے لیا گیا ھے جس میں یہ بتایا گیا کے پنشن دس سال کی کولیفائیڈ سروس شروع ھوتی ھے تو پنشن کی کیکیلیشن کیسے کی جاتی ھے

Leave a Reply