Article For PTCL VSS Optees Who Denied Right of Pension in 2008 (4th Part)

Article For PTCL VSS Optees Who Denied Right of Pension in 2008 (4th Part) – Written By Muhammad Tariq Azhar
(Dated 17-03-2016)

“وی ایس ایس میں 2008 میں ریٹائیر ھونے والے وہ پی ٹی سی ایل کے ملازمین متوجہ ھوں جنکو پنشن کے حق سے محروم رکھا گیا ھے”
اس سے پہلے میں نے اپنے طویل تیسرے آڑٹیکل (بتاریخ 16-3-8) میں بہت تفصیل سے ھر وہ بات سمجھانے کی کوشش کی جو آپ لوگوں کے زھین میں پیدا ھورھی تھی .مجھے لاتعداد روزانہ فون کالیں اور کیس ایم ایسز پاکستان کے کونے کونے سے موصول ھورھے ھیں اور ھر ایک کو جواب اپنی گونہ مصروفیات کی وجہ سے بمشکل دے پاتاھوں ایسے لوگوں سے میں بیحد معزرت خواہ ھوں .جنکی کالیں میں موصول کرپاتا ھوں انکا یہی سوال ھوتاھے کیا وہ بھی پنشن وصول کر پائں گے یا نہيں جبکے انھوں نے بغیر پنشن کے ۲۰۰۸میں وی ایس ایس لیا تھا اور انکی سروس ۲۰ سال سے کم تھی؟ کیا وہ بھی سول سرونٹ کی کٹیگری میں آتے ھیں یا نہیں وغیرہ وغیرہ .ویسے تو میں نےھر چیز کو اپنے پچھلے آڑٹیکلز میں تفصیل سے بیان کیا ھے مگر پھر بھی میں ان لوگوں کو مختصرن بیان کردیتا ھوں. پھلے وہ لوگ خاص کر جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کار پوریشن میں (یعنی دسمبر ۹۱ جب سے کارپوریشن وجود میں آئی اور دسمبر ۹۵ تک اس کا وجود رھا ) اس میں ایک ریگولر پوسٹ پر بھرتی ھوۓ یا کنفرم ھوۓ ریگولر پوسٹ پر تو اسوقت ان پر کونسے رولز اپلائی ھورھے تھے .ایک بات عرض کردوں کے کارپوریشن کے اپنے کوئی بھی رولز نھیں تھے اور اسنے گورنمنٹ کے انھیں قوانیں کو اپنا رکھا تھا جوکے گورنٹ کے سول ملازمین پر ھوتا ھے یعنی Statutory Rules. اب یہاں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کے کارپوریشن نے ان گورنمنٹ کے سول سرونٹس کے رولز کو کیوں اپنا رکھا تھا اسکا جواب یہ ھے کے پی ٹی سی ایکٹ ۹۱ کے تحت کارپوریشن میں پاکستان ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون ڈیپاڑٹمنٹ خاتمے پر اور اسکے تمام گورنمنٹ سول ملازمین کا کارپوریشن میں ضم ھوجانے پر انھیں قوانین کے ساتھ، جو انکے کارپوریشن میں ضم ھونے سے فورن پھلے پاکستان ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون ڈیپاڑٹمنٹ میں تھے تو کارپوریشن نے یہ ہی قوانین اپناۓ ان تمام ملازمین کے لئے چاھے وہ پاکستان ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون ڈیپاڑٹمنٹ سے ٹرانسفر ھوکر آۓ ھوں یا کارپوریشن میں ریگولر انھی قوانین کے تحت بھرتی ھوۓ ھوں یا ریگولر کنفرم ھوۓ ھوں وغیرہ وغیرہ . پی ٹی سی ایکٹ ۹۱ کےسیکشن ۹ کے تحت اس بات کی ضمانت حکومت پاکستان نے دی تھی کے انکے سروس کے ٹرمز اینڈ کنڈیشنس میں کوئی بھی ایسی تبدیلی نہیں کی جاسکتی تھی جس سے انکو نقصان ھو جس میں انکے پنشن لینے کے حقوق اور اسکے فائدے بھی شامل تھے اور پھر جب پی ٹی سی ختم ھوئ یعنی ۳۱ دسمبر ۱۹۹۵ کو اور اسکے ختم ھونے پر اسکی جگہ پی ٹی (ریی اورگنائزشن )ایکٹ 1996 کے تحت مختلف ادارے (یعنی پی ٹی اے ، این ٹی سی ، پی ٹی ای ٹی ، فریکونسی الیکوشن بوڑڈ اور پی ٹی سی ایل ) یکم جنوری 1996 سے بنگۓ ، جس میں سب سے بڑا ادارہ یہ کمپنی تھی یعنی پی ٹی سی ایل ، تو اور اداروں میں کاپوریشن کے ملازمینوں کے ٹرانسفر ھونے کے بعد باقی تمام ملازمین پی ٹی سی ایل میں ٹرانسفر ھوکر پی ٹی سی ایل کے ملازمین ، یکم جنوری 1996 سے بن گۓ. پی ٹی سی ایل نے بھی انھی قوانین کو اپنایا جو ان ٹرانسفڑڈ ملازمین کا پی ٹی سی میں تھا. یعنی انکا گریڈ ، تنخواہ اور اس میں اضافہ پنشن اور پنشن میں اضافہ ، پرموشنس ، انضباتی کاروائیاں اسی طرح تھیں جسطرح گورنمنٹ سول سرونٹس کی ھوتی تھیں . یہاں تک اسوقت پی ٹی سی ایل نے ۲۲جنوری ۲۰۰۵ The Removal from Service (Special Powers) Ordinance 2000″ کا گورمنٹ قانون بھی ، Civil Servant (E&D) Rules 1973 کی جگہ اپنا لیا تھا . ان گورنمنٹ قوانین کے تحت کام کرنے کا یہ سلسلہ May 2006 یعنی نجکاری تک یونہی چلتارھا اور پی ٹی سی ایل کا ھر ملازم چاھے ٹرانسفڑڈ ملازم ھو یا پی ٹی سی ایل میں ملازم ھوا ھو ، ایک سول سرونٹ کا سٹیٹس ،پی ٹی سی ایل میں انجواۓ کررھا تھا.
پی ٹی سی ایل کے 26% شئیر خرید کر یو اے ای کی کمپنی ایتصلات نے پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ اپنے ھاتھ سنبھال لی .کچھ عرصے تک تو سلسلہ یونہی چلتارھا اور پی ٹی سی ایل کے کچھ پرانے ضمیر فروش لوگ اپنی پی ٹی سی ایل کی پکی اور اپنی چھوٹی پوسٹیں چھوڑ کر پی ٹی سی ایل کی نئ انتظامیہ آفر کی ھوئی بڑی بڑی تنخواھوں پر کنٹریکٹ پر انکے ملازم ھوگۓ اور اپنے غیر ملکی آقاوں کو خوش کرنے کے لئے انکی ہاں میں ھاں ملاتے رھے اور انکو الٹے سیدھے مشورے دینے لگے اور ملازمین کا احتصال کرانے لگے . کوئی کل کا بچہ ڈی ای لاکھوں روپے کی تنخواہ بڑا ٹیکنیکل آفیسر بن گیا کوئی کل کا چھوٹا ڈائریکٹر بڑا ایچ آر کا آفیسر بن گیا وغیرہ وغیرہ ان لوگوں کی وجہ سے ملآزمین کی victimisation شروع ھوگئ اور ان ملازمین کو بلا وجہ تنگ کیا جانے لگا اور ان لوگوں نیں سر پلس ملازمین کو نکالنے کے لۓ اپنے قوانین بنانے شروع کردئے جسکے یہ بالکل بھی مجاز نہ تھے نہ انکو یا انکے بوڑڈ کو قانون کے مطابق اسکا کسی قسم کا اختیار تھا ھی نھیں .انھوں نے گورنمنٹ رولز کے برخلاف ان ٹرانسفرڑڈ ملازمین کے خلاف ایسے قوانین بناۓ جن کا سر تھا نہ پیر . اور ان میں سے ایک ان سرکاری ملازمین کی پنشن دینے کے عرصے کو دس سال سے بڑھا کر بیس سال کرنا بھی شامل تھا . حالا نکے پی ٹی ( ری اور گنائزیشن ) ایکٹ1996 کی شق ۳۵(۲) کے تحت پی ٹی سی ایل کو یہ بالکل بھی اختیار (پاور) نھیں ھے کے ان ٹرانسفرڈ ملازمین کی سر وس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس اور کسی ایسی قسم کی تبدیلی کریں جس سے انکے نقصان کا احتمال ھو جس میں انکے پنشن کے حقوق اور اسکے فائدے بھی شامل ھوں. سب سے گندہ کردار حکومت کا ھے جس نے اس بات کی ضمانت دی ھوئی تھی پی ٹی ( ری اور گنائزیشن ) ایکٹ 1996 کی شق 36(2) کے تحت کے ان ٹرانسفڑڈ ملازمین کی سر وس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس اور حقوق جس میں انکی پنشن اور اسکے فائدے بھی شامل ھیں، کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جاۓ گی جنسے انکو نقصان ھو. مگراسوقت کی بغیرت حکومت خاموش تما شائی اور بیحس بنی رھی . تو پی ٹی سی ایل کی اس وقت کے خبیس لوگوں کی انتظامیہ نے یہ شرائط لگائی اور ھزاروں ملازمین کو بغیر پنشن دئے ھوے وی ایس ایس ۲۰۰۸ زبردستی دھونس ،اور دھمکا کر فارغ کر دیا. انکو تو ایسے سرکاری سٹیٹس رکھنے والے ملازمین کو اس قسم کی شرآئط کے ساتھ وی ایس ایس کی پیشکش کرنی ھی نہیں چاھئے تھی جو کے بالکل غیر قانونی غیر اخلاقی تھی جبکہ قانون میں ھے ایک دس سالہ کولیفائیڈ سروس رکھنے والا سرکاری ملازم پنشن کا حقدار ھو جاتا ھے اب اسکو چاھے جبری ریٹائر کرو یا والینٹری یا کسی اور طریقے پنشن تو اسے ھر حال میں دینے ھی پڑے گی یہ اسکا بنیادی حق ھے اور آاسکو اس حق سے محروم کرنا سرا سر بے حد نا انصافی ھے . آئین اسلامی جمھوریہ پاکستان کی شق ۲۵ کی خلاف ورزی اور توھین ھے. اس سے سے پھلے 1998-1997 میں بھی پی ٹی سی ایل نے کافی لوگوں کو اسی طرح کا گولڈن شیک ھینڈ دیا تھا مگر اس طرح کسی پنشن کے حق پر ڈاکا نھیں مارا کیونکے اسوقت کی انتظامیہ کو یہ معلوم تھا کے جس کی پنشن والی سروس ھوگی ، اسکو پنشن دینی ھی پڑے گی . پتہ نھیں ۲۰۰۸ وہ کیسی سکھ انتظامیہ جسکو کچھ بھی پتہ نہ تھا. جسنے کچھ بھی نہیں سوچا اور ھزاروں کوں اپنی ان غیر قانونی شرائط کی بھینٹ چڑھا کر زبردستی دھونس دھمکیاں دے کر بغیر پنشن کے گھر بھیج دیا . انپر خدا کی مار پڑےآمین!
جن پی ٹی س ایکٹ 91 اور پی ٹی ( ری اور گنائیزیشن) ایکٹ 1996 کا زکر میں نے اوپر کیا ھے انھیں کی تشریح سپرکم کورٹ نے 7 اکتوبر 2011 میں مسعود بھٹی کے کیس کے فیصلے میں کی ھے اور ایک تاریخی فیصلہ سنایا جو اب (2012SCMR152) میں درج ھے . اب پی ٹی سی ایل کی اسکے خلاف 19 فروری 2016 کو سپریم کوڑٹ میں رویو پٹیشن خارج ھونے کے بعد ، یہ فیصلہ اب قانونی شکل اختیار کرچکا ھے جس کی رو سے. . . ” پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے وہ ملازمین جو پی ٹی سی ایل میں ٹرانسفر ھو چکے تھے اور یکم جنوری 1996 سے پی ٹی سی ایل کے ملازم بن گیۓ تھے ، وہ گورنمنٹ پاکستان کے سول سرونٹ کے سرکاری قوانین (Statutory Rules) کے تحت ھی پی ٹی سی ایل میں کام کریں گے( یعنی انکا سٹیٹس پی ٹی سی ایل گورنمنٹ کے سرکاری سول ملازمین جیسا ھی ھوگا). پی ٹی سی ایل کو کسی قسم کی پاور یا اختیار بالکل نھیں کے وہ ان ٹرانسفڑڈ سرکاری ملازمین کے سروس کے حقوق اور شرائیط (Terms & Conditions of the services ) میں کسی قسم کی ایسی منفی تبدیلی کریں جن سے انکو نقصان پہنچے . بلکے فیڈرل حکومت کو بھی ایسا کرنے کی ممانعت ھے. یہ فیڈرل حکومت کی گارنٹی ھوگی کے انکے موجودہ “Terms and conditions of services and rights including pensionary benefits” میں کسی ایسی قسم کی منفی تبدیلی لائی جاۓ جس سے انکو نقصان ھو. تاھم فیڈرل حکومت کی یہ گا رنٹی ان ملازمین کے لئے نھیں ھوگی جنھوں نے پی ٹی سی ایل یکم جنوری 1996 کے بعد جوائین کیا اور انکی سروس کنٹریکٹ نیچر کی ھو . سپریم کوڑٹ نے اس فیڈرل گورنمنٹ کی گارنٹی کے بارے میں واضح کیا ھے کیا ھے کے کے پی ٹی سی ایل کبھی بوجہ دیوالیہ اپنی اس زمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رھے جن میں ایسےسرکاری ملازمین کو پنشن دینا اور دوسرے فائدے بھی شامل ھیں ، تو اس فیڈرل حکومت کی گارنٹی وجہ سے ان سرکاری ملازمین کو کوئی نقصان نہ ھو. دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ھے کہ کبھی پی ٹی سی ایل پر ایسا وقت آیا اور وہ دیوالیہ ھوگئی تو فیڈرل گورنمنٹ ان ایسے ملازمین کو نقصان نہ ھونے دے گی اور خود انکو پنشن اور دوسرے فائدے جو سرکاری نوکری میں ھوتے ھیں ادا کرے گی. . . . “.
کل یعنی 16 مارچ کو سپریم کوڑٹ کا سولہ صفحات کا تفصیلی فیصلہ بھی آگیا جسکا مختصر فیصلہ سپریم کوڑٹ نے ۱۹فروری کو جاری کیا تھا اور پی ٹی سی اور پی ٹی ای ٹی کی رویو پٹیشنیں مسعود بھٹی کیس کے سپریم کوڑٹ اس فیصلے کے خلاف تھیں (جو میں اوپر بیان کر چکا ھوں) خارج کردیں .کل کے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے صرف وہ وجوھات بتاۓ ھيں جسکی وجہ سے انکی رویو پٹیشنیں خارج کی گئی ھیں. اب مسعود بھٹی والے کیس کا فیصلہ ایک قانون بن چکا ھے جو میں نے اوپر بیان کردیا ھے . اب اس قانون سے روہ گردانی ایک جرم تصور کی جائیگی .
جیسا کہ میں آپسب لوگوں کو بتا چکا ھوں کے آپ سب لوگ پہلے تو ایک ڈیپاڑٹمنٹل اپیل کریں گے اور اسکے بعد ھی ھائی کوڑٹ میں جاسکیں گے.میں نے اس اپیل کا ایک رف ڈرافٹ اپنے ۸ مارچ والے طویل آڑٹیکل میں آپ سبکو لکھا تھا کے کسی اچھے وکیل سے مشورہ کرکے وہ ڈرافٹ صیحیح کراکے قانونی لحاظ سے آپ لوگ پھلے بھجوائیں اور اسکے نوٹس پیریڈ گزر جانے کے بعد ھی آپ لوگ ھائی کورٹ میں اپیل کرسکتے ھیں.آپ سبکو میں نے یہ بھی بتایا تھا کے آپ کو اپنا کیا ریکاڈ اپنے وکیل کو دینا پڑے گا اور پھر آپکے وکیل ایک رٹ پٹیشن تیار کریں گے جس میں پھلے وہ آپکے متعلق مختصرن لکھیں گے اور اس کے بعد وہ ان عوامل کا ذکر کریں گے جو آپکے ساتھ پیش آۓ جو سراسر زیادتی تھے اور قانون اور آئین کے خلاف تھے میرے ذاتی خیال میں آپ سبکا مدعا یہ ھونا چاھئیے یا وھی جو آپکا ماہر وکیل کہے. میرے ذاتی خیال کے تحت آپ سبکو اپنی مدعا میں یہ مختصرن لکھنا چاھئیے اور پھر اسکے بعد کوڑٹ سے یہ گزارش کرنی چاھئے کے انکو انکے پنشن کا حق اس دن سے دیا جاۓ جس دن سے وہ وی ایس ایس ۲۰۰۸ بغیر پنشن کے ریٹائیر کردئیے گۓ تھے زبردستی انسے غیر قانونی شرائط قبول کراکر یعنی بغیر پنشن کے وی ایس ایس لینا
” ھم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کار پوریشن میں ملازم تھے اور ۳۱دسمبر ۱۹۹۵ کارپوریشن کے ختم ھو نے کے فورن بعد ھم پی ٹی سی ایل کمپنی میں يکم جنوری 1996 کو ٹرانسفر ھوگۓ تھے . یہ کمپنی پی ٹی (ری اور گنائیزیشن ) ایکٹ 1996 کے تحت یکم جنوری 1996 کو وجود میں آئی تھی اور ھم سب یکم جنوری 1996 سے اسکے ملازم بن چکے تھے. جیسا کے سپریم کورٹ نے مسعود بھٹی کے کیس میں لکھا ھے جو (2012SCMR152) میں رپوڑٹ ھے اور اب ایک قانونی شکل اختیار کر چکا ھے” کے جو کارپوریشن کے ملازمین پی ٹی سی ایل میں ٹرالنسفر ھوچکے تھے اور یکم جنوری 1996 سے پی ٹی سی ایل کے ملازم ھو چکے تھے انپر فیڈرل گورنمنٹ کے سارکاری ملازمین والے قوانین یعنی Statutory Rules ھی لاگو ھوں گےاور پی ٹی سی ایل کو ایسا کسی قسم کا اختیار نہیں ھوگا کے وہ انکے Terms a & Condition of the Services میں کوئی ایسی منفی تبدیلی لائیں جن سے انکو نقصان ھو.سرکاری پنشن قوانین کے تحت جب کسی سرکاری ملازم کی کوالیفائیڈ سروس دس سال ھوجاتی ھے تو وہ پنشن کا حقدار ھوجاتا ھے اب چاھے اسے کسی سزا کے طور پر جبری ریٹائر کیا جاۓ میڈیکل کی بنیاد پر یا اسکو والینٹری ریٹائرمنٹ دی جاۓ پنشن تو اسے ھر حال میں دینی پڑتی ھے .یہ ایک مسلمہ قانون ھے .مگر ۲۰۰۸ میں وی ایس ایس دیتے وقت پی ٹی سی ایل کی اسوقت کی انتظامیہ نے سرکاری ملازمین کی پنشن لینے کی مدت میں دس سال سے بیس سال کا اضافہ کردیا جو انکا ایک غیر قانونی عمل تھا کیونکے جیسا مسعود بھٹی کے فیصلے میں کہا گیا کے وہ ایسے ملازمین جو کارپوریشن سے یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی ایل میں آگۓتھے اور پی ٹی سی ایل کے ملازم بن گۓتھے ان پر سرکاری قوانین ھی استعمال ھونگے اور پی ٹی سی ایل انکے اس سروس کے حقوق میں کسی قسم کی منفی تبدیلی نہیں کر سکتے جن سے انکو نقصان ھو، اسکے باوجود پی ٹی سی ایل میں انکی پینشن دینے کی مدت دس سے بیس سال کا اضافہ کیا اور ایسے سرکاری ملازمین کو جن کی کوالیفائیڈ سروس اٹھارہ اٹھارہ ، انیس انیس سال تھی پنشن سے غیر قانونی طور پر محروم کیا اور اسکے لئے انھوں نے وی ایس ایس ۲۰۰۸میں یہ شرائیط نافظ کیں اور ایسے سرکاری ملازمین کو دھونس اور دھمکیوں سے انکی ان شرائط پر وی ایس ایس ۲۰۰۸ لینے پر مجبور کیا. کون خود چاھے گا کے وہ اتنے عرصے نوکری کے بعد بغیر پنشن کے فارغ کردیا جاۓ.اس سے پہلے 1998-1997 میں بھی اسی طرح کا گولڈن شیک ھینڈ لے کر بہت سے ملازمین چلے گۓتھے مگر جن کی پنشن کی مدت ھوچکی تھی انکو باقاعدہ پنشن دی تھی. جب ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۵ میں انھوں نے وی ایس ایس کی سکیم نکالی تو اسوقت انھوں نے بجاۓ شرط کے آپشن رکھی کے جوملازم بغیر پنشن کے وی ایس ایس لے گا اسکو زیادہ رقم ملے گی اور جو پنشن کے ساتھ انکو کم رقم ملے گی اور اسطرح جنھوں نے وی ایس ایس پنشن کے ساتھ لیا انکی پنشن لینے کی قانونی مدت دس سال یا اس سے زیادہ تھی مگر بیس سال سے کم اور انکو پنشن مل گئی مگر ھم لوگوں کو ۲۰۰۸ میں پنشن نھیں دی گئی کیونکے انھوں نے اس وقت غیر قانونی طور پر پنشن لینے کی مدت بیس سال کی کوالیفائیڈ سروس کی شرط رکھ دی تھی. لہزا یہ درخواست کی جاتی ھے انکے اس عمل کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر ھمکو اسی دن سے پنشن دینے کے احکامات جاری کئے جائیں اور ابتک جو بھی حکومت نیں پنشن انکریز کی ھے اور جو پنشن لینے والوں کے لئے میڈکل الاؤنس دیا ھے وہ سب لگا کر انکے تمام بقایا جات دئیے جانے کا حکم دیا جاۓ”
جو نقطہ میں نے اوپر بیان کیا ھے آپ سب لوگ متحد ھو کر وھی بات کریں .ایسے بہت سے لوگ بھی ھیں جنکی سروس بیس سال بھی زیادہ تھی یعنی ۲۳سال ،اور ۲۸ سال مگر انکو پینشن نہیں دی گئی صرف اس وجہ سے انکی کوالیفائیڈ سروس بیس سال سے کم ھوگئی تھی تو اسطرح ایک individual کیس بن جاتا ھے ایسے لوگ یہ بات لکھ کر خود الگ لگ پٹیشن داخل کریں اور اپنی اپنی وجوھات لکھ کر الگ کیس کریں جسطرح پشاور کے کچھ ٹیلی فون آپریٹرس نے کیا تھا اور وہ لوگ کیس جیت بھی گۓ تھے اور انکی بنشن بھی ھوگئی تھی. آپ سب لوگوں نیں بڑی محنت کرنی ھے اور بہت ھی برداشت سے کام لینا ھے اس کے حل ھونے میں کافی عرصہ بھی لگ سکتاھے اور کم بھی مگر آپ لوگوں کو پریشان نہیں ھونا چاھئیے اپنے حق کے لئے کوششش و محنت جاری رکھيں اور فیصلہ خدا کے ہاتھ پر چھوڑ دیں . ھمت مرداں مدد خدا
واسلام
محمد طارق اظھر
17-03-2016
0300-8249598

Leave a Reply