Article on VSS 2016 – تما م پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والےٹراسفڑڈ ریگولر ملازمین متوجہ ھوں

Article on VSS 2016 – تما م پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والےٹراسفڑڈ ریگولر ملازمین متوجہ ھوں

> Article33- ( لے کر اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی نا ماریں VSS-2016)
>
> تما م پی ٹی سی ایل میں کام کرنے والےٹراسفڑڈ ریگولر ملازمین متوجہ ھوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
>
>
> اسلام و علیکم
>
> میں نے اپنے پچھلے آڑٹیکل میں آپ سب کو ایک تنبیہ کی تھی کے خبردار آپ ان پی ٹی سی ایل والوں کے آفر کیۓ ھو VSS-2016 کے دھوکے میں نہ آئیں اور خبردار کوئی بھی یہ وی ایس ایس لینے کی کوشش نہ کرے او اگر لینا ھی چاھتے ھیی تو اپنی ان چار مندرجہ ذیل شرائطوں پر لیں
>
> ۱) چونکے پی ٹی سی ایل میں ہماری ملازمت ، سپریم کوڑٹ کےمسعود بھٹی کیس (2012SCMR) کے تحت سرکاری ضمرے میں آتی ھے اسلئے پھلے ھمیں وہ تمام واجبات جو حکومت پاکستان کے اپنے سول ملازموں کو ، یکم جولائی ۲۰۰۵سے اب تک دئے ھیں ، یعنی تنخواھوں میں اضافہ جات، الاؤنسس ، ایڈھاک الاؤنسس، ایڈہاک ریلیف وغیرہ وغیرہ دئے جائیں جو پی ٹی سی ایل نے نھیں دئیے( یاد رھے یہ سب ایسے تمام پی ٹی سی ایل کے ملازمین کو ۳۰ جون ۲۰۰۵ تک دئے جارھے تھے مگر نہ جانے کیوں پی ٹی سی ایل نےیکم جولائی ۲۰۰۵ سے گورنمنٹ کے مطابق دینا ختم کردئے).
>
> (2) وی ایس ایس 2016 میں وی ایس ایس لینے کے لئے جو نیٹ رقم رکھی گئی ھے وہ ھمیں حکومت پاکستان کے سول ملازمین کو دینے والی موجودہ تنخواہ بلحاظ گریڈ اور سٹیجز کی مناسبت سے ھمیں دئے جائیں
>
> (3)وی ایس ایس لینے والے ھر ایسے ملازم کو پنشن کی ماہانہ رقم دی جائےجسکی کوالیفائنگ سروس دس سال یا اس سے زیادہ ھو دی جائے جسطرح گورنمنٹ کے سول ملازمین کو دی جاتی ھے. اور یہ پنشن کی ماہانہ رقم اسی طرح زیادہ ھونی چاھئے جسطرح 1998-1997 میں پی ٹی سی ایل نے وی ایس ایس لینے والوں کو دی تھی اور اس میں ھر سالانہ اضافہ بھی اسی طرح کیا جائے جسطرح حکومت پاکستان اپنے سول ملازمین پنشنروں کے لئے ھمیشہ کرتی ھے
>
> (4)وی ایس ایس میں جو دینے کے لئے نیٹ رقم الگ سے دی جاۓ اس میں ملازم پنشن کمیوٹیشن اور جی پی ایف کی رقم شامل نہ کی جائے یہ دونوں رقمات بھی الگ سے دی جائيں کیونکے یہ رقمات تو ایک ریٹائڑڈ ھونے والے ھر سرکاری ملازم کا جائیز حق ھوتا ھے
>
> اتنا کچھ بتانے کے بعد بھی ایسے لوگ مجھ سے فون کرکےپوچھرھے ھیں کیا وہ وی ایس ایس لے لیں جیسا آفر کیا گیا ھےکیونکے پی ٹی سی ایل والے ان لوگوں کو وی ایس ایس لینے کے لئے بیحد مجبور کررھے ھیں دور دراز جگہوں پر ٹرانسفر اور سخت ایکشن لینے کی دھمکیاں دے رھے ھیں. کل میں پی ٹی سی ایل ڈسپنسری سٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی گیااپنی ماہانہ ضروری دوائیں لینے گیا ( جو آجتک کبھی پوری نہں ملیں )وھاں پر کچھ ایسے ھی پی ٹی سی ایل کے ملازمین سے ملاقات ھوئیں جنھوں نے یہ ھی مجھے بتایا کے وہ لوگ بہت پریشان ھیں کیا کریں اگر وی ایس ایس نہیں لیتے یہ ھم کو بہت پریشان کریں گے. ۔انسے میں نے یہ کہا کے یہ انکی وقتی پریشانی ھوگی ڈریں اسوقت سے جب انھوں نے وی ایس ایس لے لیا تو انکو کتنی پریشانی ھوگی اور گھر چلانا اور بچوں او پالنا مشکل ھوجائیگا اگر آپ لوگوں کے پاس گھر بار چلانے کے لئے کو ئی متبادل انتظام نہ ھو. آپ لوگ انکی وی ایس ایس آفر پر جس میں انھوں نے آپ لوگوں کو بہت ھی سبز باغ دکھائیں ھیں ان پر بلکل یقین نہ کریں اسی طرح تو انھوں نے وی ایس ایس 2008 میں دکھائے تھے اور جب ان لوگوں نے آفر لیٹر قبول کرلئے تو انکو رقم دینے کے معاملے اتنا رلایا اور پریشان کیا کے اور جو انھوں نے وی یس ایس لینے کی صورت میں دینے والی جو رقم رکھی تھی وہ انھوں نے کم کرکے دی .
>
> مجھے یاد ھے کے ان دنوں مجھے پی ٹی سی ایل مییں کام کرنے والے ایک وی ایس ایس ۲۰۰۸ میں ریٹآئڑڈ کارپنٹر جسکو میں نے اپنی سرکاری ریھآئیش گاہ پر پرائیویٹلی کا م کرنے کے لیئے بلایا تھا اسنے مجھے رو رو کر بتایا تھا کے اسکا گریڈ پانچ تھا اور اس کو جو آفر لیٹر دیا گیا اس میں بھی یہ ھی لکھا تھا . اچھی خاصی رقم آفر کی تھی اس نے اس نے وی ایس ایس 2008 لے لیا مگر جب رقم ملی وہ بہت ھی کم تھی بيچارہ بہت چیخا چلایا مگر انھوں نے کہا کے تمہارا گریڈ تو تیسرا تھا تم تو اس گریڈ میں آفیشیٹنگ کام کر رھے تھے. بھئی اگر ایسی ھی بات تھی تو پی ٹی سی ایل والے اسکا صحیح گریڈ آفر لیٹر میں لکھ دیتے اور اسکی مناسبت سے وی ایس ایس کی رقم لکھدیتے تاکہ وہ بیچارہ شائید کم رقم دیکھ کر وی ایس ایس ھی نہ لیتا. ایسے ایک نہیں ھزاروں ایسےکیسس تھے لوگ بیخبری میں مارے گئے اور وی ایس لے بیٹھے اور اب رورھے ھیں خاصکر وہ ایسے لوگ جو سرکاری کوارٹر میں رہ رھے تھے انکو وہ سرکاری کواٹرز بھی خالی کرنے پڑے چھ ماہ بعد وی ایس لینے کے بعد.
>
> تو اب بھی کیا بعید ھے یہ آفر لیٹر میں کچھ لکھيں اور دیں کچھ . یہ لوگ اپنا اعتماد کھو چکے ھیں . جب آپ لوگ انکا آفر لیٹرقبول کرلیں گے تو آپ لوگوں کے ھاتھ کٹ جائیں گے اور اسکے بعد ، آپ ان لوگوں کے رحم وکرم پر ھوں گے وہ کیا آپ کو دیتے ھیں یا نہیں کسی نہ کسی بہانے ے رقم کاٹ کاٹ کر کم کرد یں گے.
>
> انھوں نے اسوقت غیر قانونی طور پر پنشن لینے کی سروس مدت بیس سال رکھی تھی اور ایسے ھزاروں لوگوں نے پنشن لینے کی مدت جو آفر لیٹر میں لکھی تھی یعنی بیس سال یا اس سے زیادہ، اور جن لوگوں نے اس خیال سے آفر لیٹر قبول کیا تھا کے انکو پنشن بھی ملے گی کے انکی کم از کم سروس کی مدت بیس سال یا اس سے زیادہ ھے. مگر انکی اس مدت میں کسی نہ کسی وجہ سے بیس سال سے کم کردی اور ان لوگوں کی پنشن سے محروم کردیا اگرچہ ایسے متاثر لوگوں نے عدالتوں میں پی ٹی سی ایل کے خلاف کیس کر رکھے ھیں اور کافی ابھی حال ھی میں جیت بھی گئے .مگر یہ لوگ کتنے پریشان رھے او ر اب تک ھیں جنکے کیسوں کا ابھی تک فیصلہ نھیں ھوا[ میں اس پر تفصیلن اپنے آڑٹیکل 32 میں لکھ بھی چکاھوں اور کچھ واقعات بھی لکھ چکا ھوں] میرے اندازے کے مطابق انھوں نے کم سے کم دس ھزار ایس پی ٹی سی ایل کے ملازمین جنکے انکے آفر لیٹر میں دی پنشن لنے کی مدت میں غیر قانونی طور پر دس سال سے بیس سال کا اضافہ کیا گیا تھا ، یہ وی ایس ایس 2008 آفر لیٹر دیا گیا مگر ان ظالموں نے ایسے ھزاروں پنشن حقداروں کو کس نہ کسی پہانے پنشن لینے کی سروس بیس سال سے کم کرکے پنشن کے حق سے محروم کردیا .اس میں سب سے گندہ کردار اسوقت کے جی ایم ادریس بھٹی نے مظہر حسین ای وی پی کے کہنے پر اور اسکا آشیرباد حاصل کرنے کے لئے کیا . یہ بات سب لوگ جانتے ھیں
>
> آپ سب کو اپنے Article-32 میں آشکارہ کیا تھا کے خاصکر وہ ملازمین پی ٹی سی ایل کی ملازمت میں سرکاری ضمرے میں آتے ھیں.میں نے اس میں انکو اس نقصان اور نشیب سے آگاہ کیا تھا جو وی ایس ایس لینے کے بعد انکو بری طرح درپیش آسکتا ھے.جن لوگوں نے اس خوش فہمی میں پہلے وی ایس ایس لئے تھے کے انسے انکو بہت فائدہ آج بیحد پریشان خاصکر وہ لوگ جنکی انیس انیس سال تک کی نوکری تھی اور انکو پنشن بھی نہیں دی بلکے ایسے لوگوں کو بھی پنشن نہیں دی جنکو وی ایس ایس کی شرآئط کے تحت انکو پی ٹی سی ایل کو دینا چاھئے تھی یعنی جنکی سروس بیس سال یا اس سے بھی زیادہ تھی انکو بھی پنشن نہیں ملی ایسے لوگوں نے صرف اس وجہ سے وی ایس ایس لیا تھا کے انکو پنشن بھی مل جائے گی اور وی ایس کی رقم بھی مگر ان پی ٹی سی ایل والوں نے ایسے ھزاروں پی ٹی سی ایل میں کم کرنے والے سرکاری ملازمین دس سال یا اس سے زیادہ سروس والے جو پنشن کے حقدار تھے انکی کم از کم سروس کرنے مدت میں بیس سال تک کا اضافہ کرنے کے بہانے پنشن کے حق سے محروم کردیا .کیوں ؟؟؟ . میں اس پر تفصیلن اپنے پچھلے آڑٹیکل ۳۲ میں بتا چکا ھوں. ایک تو ان ظالموں نے جب وی ایس ایس ۲۰۰۸ کا اجرا شروع کیا تھا اس میں یہ شرط رکھی کے بیس سال سے کم نوکری والوں کو پنشن نھیں دی جا ئیگی . سوال یہ پیداھوتا ھے کے اے پی ٹی سی ایل کے ناخداؤں تم کو کس نے یہ اختیار دیا تھا کے تم ایسے سرکاری ملازمت کے زمرے میں آنے والوں کو پنشن کے حق سے محروم رکھو کے انکی مدت ملازمت بیس سال سے کم تھی انکو پنشن نہ دو جبکے سرکاری ملازموں کی کم کم پنشن لینے کی مدت دس سال یا اس سے زیادہ ھوتی ھے.ایسے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی کم سے کم پنشن دینے کی مدت میں زیادتی کرنے کا تو تمھارا تو بالکل اختیار ھی نہیں تھا اور نہ تم اسکی پنشن لینے کی مدت کو زیادہ کرنے مجاز ھی نہ تھے .چونکے ان تمام ایس ملازمین پر سرکاری قوانین لاگو ھوتے تھے ،سپریم کوڑٹ کے مسعود بھٹی کیس (2012SCMR152 )میں فیصلے کی رو سے.ایس لوگوں کو پنشن سے محروم کرنا تو ایسا ھی تھا کے جیسے انکو نوکری سے ڈس مس کردیا ھو کیونکے صرف نوکری سے ڈسمس ھونے والوں کو ھی پنشن نہیں ملتی ورنہ ھر اس کو جو کسی بھی طریقے سے ریٹائر کیا گیا چاھے جبری ھی کسی سزا پر ریٹائر کیوں نہ کیا گیا ھو اسکو پنشن ضرور ملتی اگر اسکی کولیفائڈ نوکری کرنے کی کم از کم مدت دس سال یا اس سے زیادہ ھو .کسی بھی وجہ سے ایسے ملازمین کو پنشن سے محروم نہیں کیا جا سکتا. اور دوسرے یہ کے جب سول سرونٹ ایکٹ 1973 کی سروس ٹرمز اینڈ کنڈشین کی کلاز (۱) ۱۹ جب یہ لکھ دیا گیا سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ پر پنشن یا گریجویٹی کا حقدار ھوجاتا ھے تو مجھے کوئی بتائے کے کس طرح اور کن اختیارات کے تحت ان پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ نے ان حقدار لوگوں پنشن کے حق سے محروم کیا . یہ بات سمجھ سے بالا تر ھے سو سال پہلے ایسے پنشن کے قوانین بننے کو ایک 26% کا شیئر ھولڈر اپنی مرضی سے تبدیل کررھا ھے اور بیحس حکومت خاموش کے اسکے بنائے ھوئے قوانین کو ایک غیر ملکی تبدیل کررھاھے جسکے صرف 26%شئیر ھے .لاکھ لعنت ھے ایسے خبیسوں پر. یہ بات یاد رکھیں کے پنشن دینے کم از کم مدت دس سال میں حکومت بھی ا ضافہ نھیں کرسکتی کیونکے اس سے ملازمین پنشنروں کا معاشی نقصان ھوتا ھے وہ اس مدت میں کمی تو کرسکتی ھے کیونکے اس سے پنشنر لینے والوں و فائیدہ ھوتاھے .[ پنشن دینا سروس ٹرمز اینڈ کنڈینس میں لکھاھے جوکلاز ۱۹ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کی سروس ٹرمز اینڈ کنڈشینس میں لکھی ھے .کے یہ سول سرونٹ ایکٹ ٹرمز اینڈ کنڈیشنس کلاز 3 سے کلاز 22 تک میں لکھی گئیں ھیں. اور ایک Ammendement بھی ضیاء صاحب کے زمانے میں آئی جسکے تحت حکومت ان ٹرمز اینڈ کنڈیشنس میں میں کوئی بھی ایسی منفی تبدیلی یعنی ردو بدل نہں کرسکتی جس سے ان سرکاری ملازموں و نقصان ھو.اور اس بات کو سپرکم کوڑٹ نے مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152 میں اپنے فیصلے میں ایک طرح سے ریکنفرم بھی کیا کے ” پی ٹی سی ایل کو کو اس بات کا بلکل اختیار ھی نھیں کے ان سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشنس میں کوئی ایسی منفی کرے جن سے ان سرکاری ملازموں کو نقصان ھو, بلکے حکومت پاکستان بھی ایسا نھیں کرسکتی بلکے وہ اس بات کی گارنٹر ھے کے ان میں ایسی کوئی منفی تبدیلی نہ کی جائے انمیں پنشن کے فائدے بھی شامل ھوں. آپ سب لوگوں کو چاھئے کے آپ یہ فیڈرل گورنمنٹ کا سول سرونٹ ایکٹ 1973 ضرور پڑھیں اور پھر مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152 کا بھی بغور مطا لعہ کریں ]
>
> اس بار وی ایس ایس 2016 میں انھوں نے پنشن لینے کے لئے سروس کی کم کم از کم مدت اٹھارہ سال رکھی ھے. تاکے جو لوگ اس لا لچ سے وی ایس ایس 2016 کی آفر قبول کرلیں تو بعد میں انکی پنشن لینے کی سروس کی اس مدت میں کسی نہ کسی بہانے اٹھارہ سال سے کم کرکے انکو پنشن لینے کے حق سے بھی محروم کردیں. جبکے گورنمنٹ کے پنشنروں کی پنشن لینے کی مدت دس سال یا اس سے زیادہ ھے.اور جیسا میں آپکو پچھلے آڑٹیکل ۳۲ میں تفصیلن بتا چکا ھوں کے ان کو مطلق بھی اس بات کا اختیار نھیں تھا کے وہ اس سرکاری دس سال کی سروس میں پنشن لینے کی مدت میں اضافہ کر سکیں . کتنے ایسے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کو وی ایس ایس ۲۰۰۸ انکو پنشن سے صرف اسلئے محروم کردیا گیا کے انکی پنشن لینے کی کم از کم انکے بنائے ھوئے قوانین کے مطابق بیس سال سے کم تھی جبکے حکومت کے قوانین کے تحت دس سال ھے اور انکو اس میں اضافہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا جیسا کے اوپر بیان کر چکا ھوں. کیونکے ایسے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی تعداد زیادہ تھی جن کی سروس کی مدت دس سال سے زیادہ تو تھی مگر بیس سال سے کم تھی.اس میں اکثریت گریڈ ا سے گریڈ ۱۲ تک کے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی تھی.
>
> جب پی ٹی سی ایل کی رویو پٹیشن مسعود بھٹی کیس کے خلاف 19 فروری 2016 کو خارج ھوئی اور سپریم کوڑت کا مسعود بھٹی کیس میں ایسے پی ٹی سی ایل ملازمین کے حق میں آنےوالا فیصلہ فائینل ھو گیا اور ایک قانونی شکل اختیار کر گیا اور یہ بات کنفرم ھوگئی کے پی ٹی سی ایل کو ایسے پی ٹی سی ایل میں ٹرانسفڑڈ ملازمین کے سروس ٹرمز اینڈ کنڈیشن میں کسی قسم کی ایسی منفی تبدیلی کا اختیار نہیں جس سے انکو نقصان ھو کیونکے ایسے تمام پی ٹی سی ایل ملازمین کو پی ٹی سی ایکٹ ۱۹۹۱ کی شق (۱)۹ او ر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996کی شقس 35 اور 36 کے تحت تحفظ ( protection ) حاصل ھے. تو اور جو ان پی ٹی سی ایل والوں نے ایسے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کے لئے وی ایس ایس ۲۰۰۸ میں بیس سال کی سروس کی شرط، پنشن کے لئے رکھی تھی وہ غیر قانونی تھی . اور پھر انکو نا حق زبردستی ایسا وی ایس ایس ۲۰۰۸ زبردستی بغیر پنشن کے لینے کے لئے مجبور کیا گیا . ورنہ کون چاھے گا کے کے انیس انیس سال سروس کرنے کے بعد بھی اسکو پنشن نہ ملے. ان ذلیلوں نے ایس تمام پی ٹی سی ایل ملازمین کو پھلے surplus , not , Not needed اور not required قرار دے کر انکا ایک پول بناکر الگ کیا اور پھر ڈرایا دھمکایا کے ” بھئی یہ وی ایس ایس لے لو اس سے تم کو کچھ تو مل جائیےگا ورنہ ھم تم کو ویسے ھی نکال دیں گے اور تم کو کچھ بھی نہیں ملے گا خوار ھو جاؤ گے”. [ نوٹ :ایسے لوگوں کو motivate کرنے اور اپنا جائیز حق لینے کے لئے ان لوگوں کے لئے میں نے آڑٹیکل لکھنا شروع کئے اور پھلا آڑٹیکل ۱ میں نے 22 فروری 2016 کو لکھا اسے نہ صرف اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اپلوڈ کیا بلکے اپنے بلاگ یعنی tariqazhar.blogspot.com پر بھی اپلوڈکیا . (یہ تمام آڑٹیکلز میرے اس بلاگ پر موجود ھیں .) اور بتایا کے وہ لوگ کیسے اپنا یہ پنشن کا حق لے سکتے ھیں جس دن سے وہ وی ایس ایس ۲۰۰۸ بغیر پنشن کے ریٹآئیر ھوۓ تھے. اس آڑٹیکل کی وجہ سے پورے پاکستان سےایسے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا انکو کچھ ڈھارنس بندھی کے انکو بھی پنشن مل سکتی ھےاور مجھے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کیا اور یہ معلوم کیا وہ کیا لا ئیحہ عمل اختیار کریں پھر میں نے انکی مدد کے لئے مزید آڑٹیکلز لکھے جسکا اثر یہ ھوا کے یہ ایسے سب لوگ قانونی جدو جہد کرھے ھيں انشاللہ، اللہ انکو کامیابی عطا فرمآئے گا . آپ سب لوگوں جو ابھی تک پی ٹی سی ایل کا حصہ ھیں صرف یہ بات بنانے کا مقصد یہ ھے کے آپ لوگ ابھی سے ھوشیار ھوجائیں اور کوئی اور ان پی ٹی سی ایل والوں کی دھونس دھمکی میں آکر اپنا نقصان نہ کر لیں اور وی ایس ایس لے لیں] اسی بابت آپکو ایک آیسے ھی وی ایس ایس ۲۰۰۸ بغیر پنشن کے ریٹائڑد ھونے والے ایک حیدرآباد ریجن کے ایک نائیب قاصد روداد سناتا ھوں جو اسنے مجھے روتے ھوئے فون پر بتا ئی تھی جو میں اپنے آڑٹیکل 3 میں بھی لکھا ھے یہ آڑٹیکل میں نے 8 مارچ 16 کو تحریر کیا ھے ، اس میں بھی اسکا زکرھے .اس سابقہ ملازم نے مجھے بتایا تھا” کے اس نے ٹی اینڈ ٹی ۱۹۸۸ میں بطور وآئرمین جائین کیا تھا مگر وہ ۲۰۰۸ میں آفس میں چپراسی کے طور پر کام کررھاتھا . اسنے روتے ھوئے بتایا کےانھوں نے اسکی سروس آفر لیٹر میں اٹھارہ سال لکھی تھی اسلئے وہ وی ایس ایس ۲۰۰۸ لینا نھیں چاھتا تھا کیونکے اسے پنشن نھیں ملتی . کیونکے انھوں نے پنشن لینے کے لئے سروس کی مدت بیس سال رکھی تھی اسکی چار بچیاں ھیں میں بغیر پنشن کے بعد وہ اپنا کیسے گزارہ کرتا . جہاں وہ اسوقت کام کرتا تھا وھاں کے ڈی ای نے اسکو سخت دھمکیاں دیں اور کہا کے اگر تم وی ایس ایس نہ لوگے تو ھم تمہارا اتنی دور ٹرانسفرکردیں گے جہاں تم کو پانی پینے سے بھی ترس جاؤگے اور گھر کو بھول جاؤگے. اسے ان لوگوں نے بیحد پریشان کیا .مرتا کیا نہ کرتا اسکو مجبورن وی ایس ایس لینا پڑا .انھوں نے صرف اسکو چھ لاکھ روپے دئیے. اور وہ پیسے کب تک رھتے .اسکی چار بچیاں ھیں جو شادی کی عمر کو پھنچ چکی ھيں .اگر یہ لوگ اسکووی ایس ایس لینے پر مجبور نہ کرتے تو آج وہ نوکری کررھا ھوتا کسی کے آگے اپنا ھاتھ تو نہ پھیلاتا.اور اپنی بچیوں کی شادی کے لئے اسے بھی بیٹی کی شادی کے لئے میرج گرانٹ قانون کے مطابق مل جاتا. اب وہ کیا کرے وہ تو اتنا غریب ھوں اب انکے خلاف کیس بھی نھیں کرسکتا جسکا میں سب کو مشورہ دے رھا ھوں کے پھلے سب پی ٹی سی ایل سے پہلے پنشن دینے کے لئے اپیل کريں اور نہ دینے کی صورت میں انکے خلاف ھائی کوڑٹ کیس کریں”. اسکی یہ باتیں سن کر میں نےاسے کافی دلاسہ دیا اور کہا وہ کیس نہ کرے بس ان لوگوں کے لئے دعا کرے جو کیس کررھے ھیں .انشاللہ جب وہ کیس جیتیں گے تو اسکا بھی مسعلہ بھي حل ھوجائیگا.
>
> جو کچھ میں نے اوپر بیان کیا اسکی وجہ صرف یہ ھے کے آپ لوگ کسی لالچ میں آکر کوئی غلط فیصلہ نہ کرلیں اور یہ وی ایس ایس 2016 لے لیں اور پھر ساری عمر پچھتائیں اور اپنے اھل وعیال کے لئے مسائیل پیدا کریں .آپ لو گ ان کي دی ھوئی سبز باغ دکھانی والی آفر نہ قبول نہ کریں ان کی باتوں اور آفر پر باکل اعتماد نہ کریں یہ بڑے بد اعتماد لوگ ھیں آپکو سخت دھوکہ دیں گے . مجھے بتایا گیا ھے کے ھر ریجن کو ٹارگٹ دیا گیا کے اگروہ اتنے ملازم وی ایس ایس 2016 میں بیھجیں گے اور ٹارگٹ پورا کرے گا تو اسکے جی ایم اور ٹارگٹ پورا کرنے والے اور آفیسروں کو انعام دیا جائے گا. مجھے حیدر آباد سے لوگوں نے بتایا کے وہاں کے جی ایم جاوید شیخ صاحب بہت ناچ رھے ھیں کے انھوں نے ۳۰% ملازمین کو وی ایس ایس پر بیھج دیا ھے جس پر انکو مظہر حسین نے نہ صرف انکو مبارکباد دی اور انکو ڈیڑھ لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا. میں سمجھتا ھوں کے جاوید شیخ نے بڑا ظلم کیا ان لوگوں کے ساتھ جنھوں نے انکے لارے لپے اور دھمکیوں کی وجہ سے یہ وی ایس ایس قبول کیا . مجھے یہ بھی بتایا گیا سے تقریبن ۵۰ چھوٹے ملازمین کو حیدر آباد سے دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کردیا گیا کے وہ گھبرا کر وی ایس ایس لے لیں مگر انھوں نے NIRC میں کیس کرکے سٹے لے لیا . یہ خوش آئند بات کے پیپلز یونیٹی بھی انکا ساتھ دے رھی ھے اور ان کو وی ایس ایس لینے سے منع کررھی ھے اور جن لوگوں کے زبردستی ٹرانسفرز یہ پی ٹی سی ایل انتظامیہ صرف اس وجہ سے کررھی ھے تا کے یہ لوگ گھبرا کر وی ایس ایس لے لیں ، پیپلز یونیٹی والے انکے ٹرانسفر روکنے کے لئے جدو جہد کررھے اگر یہ بات صحیح ھے تو ضیاالدین اور انکے ساتھی شاباش اور مبارک کے مستحق ھیں انکو چاھئے کے انتظامیہ اگر وی ایس وی ایس پی ٹی سی کے ملازمین کو دینا چاھتی ھے ان چار شرائیط پر دے جسکا زکر اوپر کرچکا ھوں کیونکے پی ٹی سی ایل شرائط پر وی ایس ایس لینا ان ملازمین کے لئے بڑا ھی تباہ کن ھوگا دے.
>
> آخر میں آپ لوگوں بتانا چاھتا ھوں کے اسکو میں اپنا ایک زاتی فرض سمجھتا ھوں کے آپ سبکو اس طوفان اور پریشانی سے آگاہ کروں جو یہ وی ایس ایس 2016 لینے کے بعد آپکے مقدر میں لکھ دی جاتی میں یہ اسلئے آپ سبکو آگاہ کررھا ھوں کے جو میں وی ایس ایس ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۲ لینے والوں کے موجودہ حالات دیکھ کر رھا ھوں (جسکا کچھ زکر اوپر بھی کر چکا ھوں) . اب یہ تمام لوگ اب آٹھ آٹھ آنسو رو رھے ھیں اور بیحد پریشان اور پچھتارھے ھیں ھیں ماسوا انکے جنھوں نے پھلے سے اپنے لئے متبادل انتظامات کرکھے تھے یعنی دوسری نوکری یا کاروبار پھلے سے تھا وغیرہ وغیرہ. بحر حال آپ کچھ اور اس بابت معلوم کرنا چاھتے ھوں یا آپ کے زھن میں کچھ اور سوال پیدا ھوتے ھوں تو ضرور مجھ سے رابطہ کریں تا کے آپکو مطمعن کرسکوں. شکریہ
>
> واسلام
>
> محمد طارق اظہر
>
> ریٹائڑڈ جنرل منیجر(آپس)
>
> پی ٹی سی ایل ایس ٹی آر ون ریجن
>
> حیدرآباد
>
> 15 دسمبر 2016
>
> 0300-8249598

Leave a Reply