EOBI Pensioners Looking Toward Prime Minister Nawaz Sharif

 EOBI Pensioners Looking Toward Prime Minister Nawaz Sharif
(Published in Daily Urdu Newspaper “Pakistan Lahore”

ای اوبی آئی کے پنشنروزیراعظم کی توجہ کے طالب

مکرمی !ایمپلا ئز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) وفا قی وزارت محنت کے زیر انتظام ادارہ ہے جو پرائیویٹ ملازمین کی بہبود کے لئے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1976 ء میں قائم کیا تھا تا کہ سرکاری ملازمین کی طرح پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو بھی پنشن کی سہولت دی جاسکے ۔اس کے قانون کے مطا بق اس وقت سے آج تک تمام مالکان اپنے ملازمین کی تنخواہ آٹھ ہزارروپے کا پانچ فیصد 400 روپے خود اپنی طرف سے اور اسی روپے ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے 480 روپے ماہوار جمع کراتے ہیں ، جبکہ اتنی ہی رقم حکومت اپنی طرف سے جمع کراتی تھی 1976 ء سے 1992ء تک یہ سلسلہ قائم رہا لیکن بدقسمتی سے 1992ء میں اس دور کی حکو مت نے حکومتی رقم جمع کرانا بند کردی تاہم اس کے باوجود ای او بی آئی کے پاس اربوں روپے اور اربوں روپے کی پراپر ٹی موجود ہے ۔جس میں اربوں روپے کی کرپشن کے مقدمات بھی سپریم کورٹ میں زیر سما عت ہیں اورکئی اعلیٰ حکام گرفتار ہیں یا نظر بند ہیں ۔اعلیٰ حکام نے ای او بی آئی کے جمع شدہ سر مایہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ۔انہی حکام نے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد وزرات محنت کے اس شعبہ کو اپنے پاس رکھ کر با قی تمام محکمے صوبوں کو دیدیئے تھے ‘ حیرت انگیز طور پر صوبوں نے بھی ای او بی آئی کو واپس لینے کی کوشش نہیں کی ‘ یا وفاقی حکومت نے واپس دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ یہ ایک انتہائی منافع بخش شعبہ تھا ۔ مگر اس سے ملازمین کو کوئی فا ئدہ نہ ہوا بلکہ الٹا نقصان اٹھانا پڑا جس سے بیس لاکھ پنشنرز متاثر ہو رہے ہیں ۔ ملک بھر میں کم ازکم تنخواہ جو سرکاری سطح پر مقرر ہے وہ تیرہ ہزار روپے ہے جس کا اطلاق پرائیویٹ ملازمین پر بھی ہوتاہے مگر ای او بی آئی کی کٹوتی آج بھی آٹھ ہزار روپے کے حساب سے ہو رہی ہے ۔ جبکہ یہ کٹوتی موجودہ کم ازکم تنخواہ سے ہوتی تو مالکان 650 روپے جمع کراتے اور اسی روپے ملا زمین کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی تو یہ 730 روپے ہوتے ‘ مگر اس پہ کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ای او بی آئی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اگر وفا قی حکو مت 1992ء سے ہر ملا زم کے 480 روپے میں اپنی کنٹری بیوشن بھی جاری رکھتی تو آج ہر پنشنر کو پندرہ سے بیس ہزار روپے پنشن مل رہی ہوتی ۔ریٹائرمنٹ کی عمر میں مر د اور عورتیں بعض بیماریو ں کا شکا ر ہو جاتے ہیں جن میں بلڈ پریشر اور شو گر ہو جانا معمو ل کی بات ہے ۔ کس طرح وہ ادویا ت خرید سکتے ہیں ۔ریٹا ئر منٹ کے بعد اگر بچے بچیا ں شادی شدہ ہو ں تو اپنے اپنے گھر کے ما لک ہوتے ہیں ‘وہ اپنے لئے کریں یا والدین کو کچھ دیں ۔ہماری حکومت کو چاہیے کہ تمام پاکستانیوں کے لئے یکساں قوانین بنائے ‘ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ ملک صرف اشرافیہ کے لئے بنا یا گیا تھا اس میں عام آدمی کو بھی زندہ رہنے کے لئے سہو لتیں دینا چاہئیں ا ور آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ سے گزارش ہے کہ وہ نئے بجٹ کی منصوبہ بندی کرتے وقت غریبو ں کا بھی خیال رکھیں جن کی زندگی کا دارومدار ہی پنشن پر ہے ‘ اس میں معقول حد تک اضافہ کیا جائے ۔ایک عام آدمی کا بجٹ بنانا کونسا مشکل کام ہے ۔اگر اس کا اپنا مکان نہیں ہے تو پھر موجودہ پنشن میں کیسے زندہ رہ سکتا ہے ۔سرکاری ملا زمین کے لئے تو سرکاری رہائش گاہیں موجودہیں ‘ غریب پرائیویٹ پنشنر ز کے لئے بھی آشیانہ جیسی سکیموں کی طرح کے گھر بنا کر انہیں انتہا ئی آسان اقساط پر مکانات مہیا کئے جائیں ۔اس کے لئے کسی الگ بجٹ یا الگ رقم کی ضرورت نہیں ہے ‘ بلکہ ای او بی آئی کے اربو ں روپے کے سکینڈل سے ملنے والی رقوم سے ہی یہ کالونیاں بنائی جائیں ‘ہر شہر میں حکومت کے پا س سرکاری اراضی ایکڑوں اور مربوں کے حسا ب سے موجود ہے‘ ضلع کی سطح پر ریٹائر ڈ ملازمین کے لئے گھر تعمیر کر کے جمہوری نظام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جا سکتے ہیں ۔ملک کو قر ضوں کے جال میں جس طرح پھنسا یا جارہا ہے اس کی لپیٹ میں تو ہر امیر ‘ غریب کے ذمہ یکساں رقم ہو گی ‘ لیکن اس کے فوائد صرف اوپر کی سطح کے لوگوں کو ہی حا صل ہوں گے ۔یہ صرف اس صورت میں ہی ممکن ہے اگر منصوبہ بندی کرنیوالے ہمارے پاکستا نی لو گ ہوں ۔ اور اگر ہماری منصوبہ بندی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک والوں نے ہی کرنی ہے تو پھر ہمارے تمام خواب ادھورے ہی رہیں گے ۔پھر جو وہ چاہیں گے وہ ہوگا اور ہم صرف منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ (خلیل الرحمن ، سرپرست اعلیٰ ای او بی آئی پنشنرز ایسوسی ایشن ،لاہور)

Leave a Reply