Flexible Mobile Phone will available in 2013

Flexible Mobile Phone will be available in 2013

BBC URDU.COM

لچکدار موبائل 2013 میں دستیاب ہوں گے

تصور کریں کہ آپ اپنے موبائل فون کو ایک کاغذ کے ٹکڑے کی طرح استعمال کر سکیں۔

Samsung Flexible Mobile Phone availability in 2013

اسے موڑیں، گرا دیں یا پھر موڑ کر اپنی جیب میں رکھ لیں اور اگر آپ کا پیر بھی اس پر پڑ جائے تو بھی اسے نقصان نہ پہنچے۔

محققین آج کل ایسے لچکدار موبائل فون پر کام کر رہے ہیں، جو کاغذ کی طرح انتہائی پتلا اور موڑ کر جیب میں رکھے جانے کے قابل ہوگا۔

Nokia flexible mobile

اس طرح کے لچکدار موبائل فون کے نمونے گیجٹ شوز میں پہلے سے ہی عوام کی توجہ کا مرکز رہے ہیں لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ 2013 تک اس طرح کا پہلا فون بازار میں دستیاب ہوگا۔

ایل جی، فلپس، شارپ، سونی اور نوکیا جیسی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر پہلے سے ہی کام کر رہی ہیں، لیکن خبروں کے مطابق بازار میں آنے والا ایسا پہلا فون جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ لا سکتی ہے۔

سام سنگ سمارٹ فونز میں لچکدار ’او ایل ای ڈی‘ ٹیکنالوجی کا حامی ہے اور اسے مکمل اعتماد ہے کہ یہ فون دنیا بھر میں صارفین میں بہت مقبول ہوگا۔

سام سنگ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان فون کی سکرین موڑنے کے قابل اور بہتر تو ہوگی ہی، ساتھ ساتھ یہ روایتی ایل سی ڈی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ہلکی، پتلی اور لچکدار بھی ہوگی۔

سمارٹ فونز کو لچکدار بنانے کے لیے کئی ٹیکنالوجیز موجود ہیں لیکن اس کے پیچھے ایک ہی تصور ہے کہ الیکٹرانک آلات کو کارآمد بنایا جائے۔ 1960 کی دہائی میں پہلی بار لچکدار شمسی سیل پیش کیا گیا تھا جبکہ 2005 میں فلپس کمپنی پہلی بار ایک لچکدار ’ڈسپلے‘ منظرِ عام پر لائی۔.

پوری طرح سے لچکدار مصنوعات بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام حصے بھی لچکدار ہوں۔ ڈسپلے کے علاوہ بیرونی کوور اور اس کی بیٹری کا لچکدار ہونا بھی ضروری ہے۔

 

کیمبرج یونیورسٹی میں نوکیا کے پروٹوٹائپ لچکدار فون پر کام جاری ہے

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر آندریا فراري مستقبل کے لچکدار ڈسپلے پر کام کر رہے ہیں اور انہوں نے اس کے لیےگریفين کا استعمال کیا ہے۔

یہ مادہ 2004 میں مانچسٹر یونیورسٹی میں کام کرنے والے دو روسی سائنسدانوں نے بنایا تھا۔ گریفين کاربن کے صرف ایک ایٹم سے بنی ایک چادر ہے اور ہیرے سے زیادہ مضبوط یہ چادر نہ صرف یہ شفاف اور ہلکی بلکہ انتہائی لچکدار بھی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ گریفين اور سلیکون مستقبل کے الیکٹرانک آلات میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ نوکیا کے لیے کام کرنے والے پروفیسر فراري بتاتے ہیں،’ہم لچکدار، شفاف ڈسپلے پر کام کر رہے ہیں جو مستقبل کے لچکدار فون، ٹیبلٹ، ٹی وی اور شمسی سیل کا حصہ بن سکتا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے،’سام سنگ اس شعبے میں کافی آگے ہے لیکن ہم نے یہاں کیمبرج میں نوکیا پروٹوٹائپ پر کچھ اچھا کام کیا ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ گریفين نہ صرف لچکدار فون بنانے بلکہ اس کے معیار کو بڑھانے میں کافی مددگار ثابت ہوگی کیونکہ ایک اصول کے طور پر ایک لچکدار ہینڈ سیٹ کی بیٹری بھی اسی مواد سے بنائی جا سکتی ہے۔

چاہے کوئی بھی ٹیکنالوجی کیوں نہ ہو، لگتا ہے کہ جلد ہی آپ کے ہاتھ میں ایسا فون ہوگا جو نہ صرف زبردست ہوگا بلکہ لچکدار بھی۔

Leave a Reply