Hearing of Review Appeals by PTET/PTCL/FOP & Contempt of Court case on 14 Dec 2016 (Wednesday)

Hearing of Review Appeals by PTET/PTCL/FOP & Contempt of Court case on 14 Dec 2016 (Wednesday)

Islamabad (Friday, December 9, 2016) 0- Hearing of Review Appeals by PTET/PTCL/FOP & Contempt of Court case filed by Mr.Sadiq Ali etc fixed for 14-12-2016 before Bench-IV comprising :-

  1. Mr.Justice Amir Hani Muslim
  2. Mr.Justice Gulzar Ahmad &
  3. Mr.Mr.Justice Manzoor Malik.

Regards,
Muhammad Tauqeer
09-12-2016.

PTCL Case Cause List of Supreme Court dated 14-12-2016


Senate Standing Committee on IT Ordered for PTCL Working and Retired Employees 

پنشن اور بیواؤں کو ادائیگی نہ کرنے پر بڑی توجہ دی جارہی ہے پی۔ٹی۔سی۔ایل کا نجکاری کے 800 ملین ڈالر کی طرف دھیان نہیں،چئرمین کمیٹی
سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے چئرمین سینیٹر شاہی سید نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کی کمیٹی سفارشات کے باوجود پی ٹی سی ایل کی جانب سے اپیل کرنے کو پنشنرز اور بیواؤں کے ساتھ ناروا سلوک قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دے دیا۔چئرمین کمیٹی نے کہا کہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ ادارے کو دینے والے ملازمین اور بیواؤں کو ادائیگی نہ کرنے پر بڑی توجہ دی جارہی ہے لیکن پی ٹی سی ایل کا نجکاری کے 800 ملین ڈالر کی طرف دھیان نہیں دیا جارہا۔
انہوں نےکہا کہ کمیٹی جو بھی سفارشات اور تجاویز بھجواتی ہے اسکی کوئی پروا نہیں کی جاتی ہے۔وزارت اور وزارت کے اداروں کو سپریم کورٹ پر بھی اعتبار نہیں ہے سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا لیکن اپیل کردی گئی ۔کیا 35 سال ملازمت کرنے والے کی پنشن انکی قبروں پر ادا کی جائے گی۔
چئرمین سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ پچھلے سال پی۔ٹی۔سی۔ایل کو تقریبا” آٹھ ارب کی سالانہ بچت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہوشیاری اچھی بات نہیں ہے پنشنرز کا معاملہ انسانی بنیادوں پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تھا جس پر اپیل میں گئے ہیں۔چئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اضافی پنشن کی رقم کتنی ہو گی جس پر سیکرٹری وزارت نے بتایا کہ 20 ارب سے 40 ارب روپے کے درمیان رقم بنتی ہے۔ چئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتصالات کے 800 ملین ڈالر سے تو یہ رقم زیادہ نہیں ہے۔

Senate Standing Committee on IT Ordered for PTCL Working and Retired Employees

Leave a Reply