Issue of Senior Pensioners – Letter in Nawa i Waqt Lahore

Issue of Senior Pensioners – Letter in Nawa i Waqt Lahore

Published on Thursday, March 3, 2016

بزرگ پنشنرز کا معاملہ
ایڈیٹر | ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! جب بھی کوئی سرکاری ملازم اپنی 60 سال عمر میں ریٹائر ہوتا ہے۔ تو پنشن رولز 1963ء کے Commutation table کے مطابق اس کی پنشن کا تعین کیا جاتا ہے۔ حکومت پنجاب 2000 سے پہلے ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی گراس پنشن کا 50 فیصد اور 2000 کے بعد ریٹائر ہونے والے پنشنرز کا 40 فیصد حصہ Purchase کر لیتی تھی۔ اسکی مدت 15 سال اور 12 سال تھی۔ مثال کے طور پر ریٹائرمنٹ کے وقت اگر کسی سرکاری ملازم کی گراس پنشن ماہوار 9880.50 روپے بنتی تھی تو 40 فیصد کے حساب سے گورنمنٹ پنجاب میں پینشنر کے 3952.20 روپے 12 سال کے لئے مستعار لے لیتی۔ جس کو Commuted portion لکھ جاتا ہے۔ باقی 5928.30 روپے ماہوار Net Persion کے نام سے پنشنر کو دینا شروع کر دیتی ہے۔ حکومت بجٹ میں عموماً ہر سال اپنے حاضر سروس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان کرتی ہے اور اکثر اس اضافے کا اطلاق بزرگ پنشنرز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بزرگ پنشنرز کا مطالبہ ہے کہ 15 سال اور 12 سال کے معاہدہ کے گزرنے پر ان کے Commuted portion پر بھی اسی طرح اضافہ کیا جائے جیسے ان کی Running Persion پر دیگر حاضر سروس ملازمین کی طرح کیا جاتا ہے۔ اس حق کے حصول کے بزرگ پنشنرز جب عدالتوں میں گئے تو عدالتوں نے پینشنرز کے حق میں ایک کے بعد کئی فیصلے دئیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت اپنے وفاقی بزرگ پینشنرز کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق پینشن دے چکی ہے اور ملک کے دیگر تینوں صوبے بھی فیصلے پر کماحقہ عمل کر چکے ہیں مگر پنجاب حکومت کے کان پرچون تک نہیں رینگ رہی۔ لگتا یوں ہے کہ پنجاب حکومت بزرگ پنشنرز کے پیسے کو اپنے ’’میگا منصوبوں‘‘ پر خرچ کر رہی ہے۔ (نور محمد اعجاز گوجرانوالہ)

Issue of Senior Pensioners - Letter in Nawa i Waqt Lahore

Issue of Senior Pensioners – Letter in Nawa i Waqt Lahore

Leave a Reply