Today Court Case Update in Supreme Court Regarding PTCL pensioners

TODAY COURT CASE UPDATE IN SUPREME COURT OF PAKISTAN
Islamabad (Tuesday, April 12, 2016) – In the Supreme Court today on 12-04-2016, objection against Mr.Khalid Anwar Advocate sent to Chief Justice for decision (whether Mr.Khalid Anwar Advocate may plead the case in Review Appeals).
Adjourned and next date will be again fixed soon Insha Allah.
Regards,
Muhammad Tauqeer

Facebook Feedback:-
PTCL Pensioners
Objection against Mr.Khalid Anwar Adv was raised on 21-Oct,2015 when court allowed him.The court after six months considered that application and hence the case delayed today.
Anwar Ali Bhatti
Who object on Khalid Anwar Adv. And what? @ Tauqeer Muhammad
PTCL Pensioners
Objection against Mr.Khalid Anwar Adv was raised on 21-Oct,2015 when court allowed him.The court after six months considered that application and hence the case delayed today.

Muhammad Tariq Azhar

ابھی صبر کے امتحان اور بھی ھیں . شائید اللہ کیی مرضی ابھی نہیں تھی اور یہ کیس اب پھر پینڈنگ ھوگیا اور دیکھیں کب لگتاھے بس دعا کریں کے جلد لگے . پنشنرز کے وکیل ستی صاحب کو یہ مس۶لہ اٹھانا نہیں چاھئے تھا انکی بات تو قانونی تھی مگر یہ بھی بہت ممکن تھا اگر وہ اس بات پر زور نہ دیتے تو خالد انور صاحب اپنی بحث کا آغاز کردیتے اور مجھے معلوم ھے کے وہ آسانی سے اپنی بات اتنی جلدی ختم نہيں کرتے نہ جانے کتنا وقت لیتے پھر کسی وجہ سے کیس کو توڑ موڑ کردیتے اور بات کو کہاں سے کہاں لے جاتے. کیونکے جج حضرات انکو اچھی طرح جانتے ھیں ایک تو وہ سابق وزیر اعظم (نام ذہین میں نھیں آرھا) انکے فرزند ھیں اور دوسرے حکومت میں کافی رھے ھیں اور سابق وزیر قانون ھیں اور اسٹیبلیشمنٹ سے کافی تعلق رھا ھے تو اتنی آسانی سے ھار نہیں مانتے تو ھوسکتا ھو اسی بات کو سوچ کر ستی صاحب نیں یہ قدم اٹھایا کہ “نہ نو من تیل ھوگا اور نہ رادھا ناچےگی” اور آئندہ یہ نہ ھونگے تو کیس کا فیصلہ جلد ھوجائے گا . اگر کوئی یہ سمجھتا ھے کے انکے(خالد انور ) کے ھو تے ھوۓ فیصلہ آج ھوجاتا اور انکی یہ رویو خارج ھوجاتی تو سخت غلتی پر ھیں . میرا تو یہ زاتی خیال ھے آجکا یہ اقدام ھم سب کے لئے اللہ بہت بہتر کرے گا .اب دیکھیں کے چیف جسٹس صاحب کیا فیصلہ کرتے ھیں انکو بھی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاھئے کیونکے قانون تو یہھی کہتا ھے جو ستی صاحب نے کہا.
اور دوسری بات آپ سب کو یہ بتانا چاھتا ھوں کے یہ بات ٹھیک ھے کےآریجنل اپیل میں فیڈریشن پآڑٹی نھی تھی یعنی اس کیس میں جس میں سپرم کوڑٹ نے پی ٹی ای ٹی اور پی ٹی سی ایل کی اسلام آباد فیصلے کے خلاف اپیل خارج کرتے ھوۓ, پنشن گورنمنٹ کے اعلان کے مطابق ادا کرنے کو کہا تھا اور اس آڈر کے ساتھ ھی سپرکم کوڑٹ اس طرح کی پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کی تقریبن سترہ اپیلیں خارج کی تھیں اس میں پشاور ھائی کورٹ والے 3 جولائی 2014 کے اس یوسف آفریدی والے فیصلے کے خلاف بھی اپیل تھی . جس میں پشاور ھائی کورٹ نے نہ صرف پنشن گورنمنٹ کے اعلان کے مطابق ادا کرنے کو اکہا تھا بلکے ان New Pension Rules -2012 ( جو پی ٹی ای ٹی نے بناۓ تھے اپنی اجارہ داری قائیم کرنے کے لئیے گورنمنٹ کے پشنرز پر) ان رولز کو صرف پی ٹی سی ایل کے ان ملازمین کے تکلئے محدود کردیا تھا جو یکم جنوری 1996 کے بعد پی ٹی سی ایل میں بھرتی ھوۓ تھے اور جو یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی سے پی ٹی سی ایل میں آچکے تھے, ان پر گورنمنٹ کے ھی پنشن رولز استعمال ھوں گے جیسے ھم لوگ. ان پی ٹی ای ٹی اور پی ٹی سی ایل کو اس فیصلے سے بہت ہی تپ چڑھی تھی تو اس رویو کیس میں اسکے خلاف بھی رویو شامل تھی . اس کیس میں یعنی پشاور ہائی کوڑٹ میں فیڈریشن کو بھی ، پی ٹی سی اور پی ٹی ای ٹی کے علاوہ پاڑٹی بنایا گیا تھا مگر اس میں فیڈریشن کی طرف سے خالد انور صاحب وکیل نہیں تھے تو وہ اب اس کیس کی رویو پٹیشن میں کیسے سپرم کوڑٹ میں وکیل بن سکتے ھیں؟
طارق

Leave a Reply